نظم: خطاب بہ نوجوانانِ ملت

نظم: خطاب بہ نوجوانانِ ملت

اے پُر شکوہ ! تُو اپنی ہمت بڑھا
کسی غیر کے آگے سر نَے جُھکا
سُنی اَن سُنی کر کے دُنیا کی چل
تُو ہر حال میں ذکرِ حق ہی سُنا
وہی لوگ نغمے ترے گائیں گے
تھا پاگل جنہوں نے تجھے کل کہا
وفا کی طلب میں تُو کیوں کھو گیا
وہ تیری خودی ہی ہے تیری وفا
نہ اس راہ چل تُو نہ اس راہ چل
وہی راہ چُن جو ہے راہِ خُدا
اٹھے کانپ سارا کا سارا نگر
زباں میں تو رکھ ایسی گرجے صدا
اِدھر دیکھ نَے تو اُدھر دیکھ تو
فقط اپنی منزل کا رستہ سجھا
وہ خنجر بھی تُو ہے وہ شمشیر بھی
وہ دشمن ترے سامنے خاک سا
نہ منزل کی چاہت میں تُو بھاگ اب
تری ٹھوکروں میں ہے منزل روا
خدا ایک ہے، دین بھی ایک ہے
لہو بہہ رہا، تو ہے کیوں گم سدا

نظم "خطاب بہ نوجوانانِ ملت" کی مفصل ادبی و فکری تشریح

دیباچہ اور مقصدِ کلام: محمد اسدؔ علی کی یہ نظم "کلیاتِ اسدؔ" کا وہ عظیم باب ہے جو امتِ مسلمہ کے نوجوانوں کے نام ایک تازیانہ ہے۔ شاعر نے اس نظم میں اقبال کے شاہین کا تصور تازہ کیا ہے اور نوجوانوں کو ان کی عظمتِ رفتہ کی یاد دلائی ہے۔ یہ محض ایک نظم نہیں بلکہ ایک منشور ہے جو دورِ حاضر کے مایوس اور بے راہ رو نوجوان کو جرات، ہمت اور خودداری کا راستہ دکھاتا ہے۔

جراتِ اظہار اور غیرتِ ایمانی: نظم کا آغاز ایک للکار سے ہوتا ہے۔ "اے پُر شکوہ!" کا خطاب ظاہر کرتا ہے کہ شاعر کے نزدیک نوجوان کمزور نہیں بلکہ جاہ و جلال کا پیکر ہے۔ اسدؔ صاحب اسے نصیحت کرتے ہیں کہ اپنی ہمت کو اتنا بلند کر کہ تجھے کسی "غیر" یعنی باطل قوت کے آگے سر جھکانے کی ضرورت نہ رہے۔ یہ توحید کی عملی شکل ہے کہ مومن کا سر خدا کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتا۔

استقامت اور حق گوئی: دوسرے اور تیسرے شعر میں شاعر نے دنیا کی تنقید اور ملامت کو پسِ پشت ڈالنے کا درس دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تم حق کی بات کرو گے تو دنیا تمہیں "پاگل" کہے گی، تمہارا مذاق اڑائے گی۔ لیکن ایک سچے مجاہد کا شیوہ یہ ہے کہ وہ دنیا کی باتوں کو ان سنی کر کے صرف "ذکرِ حق" میں مگن رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن عظیم ہستیوں کو ابتدا میں دنیا نے جھٹلایا، کامیابی کے بعد وہی دنیا ان کے نغمے گاتی نظر آئی۔ یہ استقامت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

فلسفہء خودی اور راہِ خدا: "وفا کی طلب میں تُو کیوں کھو گیا"۔ یہاں شاعر نے نوجوانوں کے ایک بہت بڑے المیے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ دنیاوی رشتوں اور جھوٹی وفاؤں کی تلاش میں اپنی قیمتی زندگی برباد کر دیتے ہیں۔ اسدؔ کے نزدیک اصل وفا "خودی" سے وفاداری ہے۔ یعنی اپنی روح اور اپنی پہچان کو پہچاننا ہی سب سے بڑی وفاداری ہے۔ جب انسان خود کو پہچان لیتا ہے، تو اسے "راہِ خدا" مل جاتی ہے۔ وہ راہیں جو دنیا دکھاتی ہے، وہ گمراہی کی طرف لے جا سکتی ہیں، مگر خدا کی دکھائی ہوئی راہ کبھی ناکام نہیں ہوتی۔

گرجتی صدا اور باطل کا خوف: چھٹے شعر میں شاعر نوجوان کی آواز میں وہ تاثیر دیکھنا چاہتے ہیں جس سے باطل کے ایوان لرز اٹھیں۔ "گرجے صدا" سے مراد نعرہء حق ہے جو پورے شہر یعنی معاشرے میں بیداری پیدا کر دے۔ ایک نوجوان کی زبان میں وہ قوت ہونی چاہیے کہ باطل قوتیں اس سے خوفزدہ رہیں۔ یہ تبھی ممکن ہے جب قول اور فعل میں تضاد نہ ہو اور مقصد صرف رضائے الٰہی ہو۔

یکسوئی اور بے خوفی: ساتویں اور آٹھویں شعر میں "یکسوئی" (Focus) کا درس دیا گیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ دائیں بائیں دیکھنے کے بجائے صرف اپنی منزل پر نظر رکھو۔ نوجوان کو اپنی طاقت کا احساس دلاتے ہوئے اسدؔ کہتے ہیں کہ تو خود ہی "خنجر" ہے اور خود ہی "شمشیر"۔ یعنی تمام وسائل تیرے اندر موجود ہیں۔ جب تو ہمت کرتا ہے، تو دشمن تیرے سامنے "خاک" کی مانند بے وقعت ہو جاتا ہے۔ یہ نفسیاتی برتری کا وہ مقام ہے جہاں مادی وسائل کی کمی آڑے نہیں آتی۔

ٹھوکروں میں منزل: نویں شعر میں ایک بہت بڑا فکری نکتہ ہے کہ منزل کی تلاش میں بھاگنے کے بجائے خود کو اتنا طاقتور بناؤ کہ منزل خود تمہارے پیچھے آئے۔ "تری ٹھوکروں میں ہے منزل روا"۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ جب انسان عزمِ صمیم کر لیتا ہے، تو کامیابی اس کے قدموں کا بوسہ لیتی ہے۔ منزل مقصود نہیں ہوتی، بلکہ جدوجہد ہی اصل منزل ہے۔

مقطع اور اتحادِ امت کا پیغام: نظم کا اختتام ایک گہرے دکھ اور فکر پر ہوتا ہے۔ شاعر اس بات پر نوحہ کناں ہے کہ خدا ایک ہے، دین ایک ہے، پھر بھی امت کے نوجوان فرقہ واریت اور گروہ بندیوں میں گم ہیں۔ "لہو بہہ رہا" کی ترکیب ملتِ اسلامیہ کے حالیہ زخموں کی طرف اشارہ ہے جہاں ہر طرف مسلمانوں کا خون سستا ہو چکا ہے۔ اسدؔ صاحب سوال کرتے ہیں کہ اس خون ریزی کے باوجود تو کیوں خوابِ غفلت میں گم ہے؟ یہ مقطع نوجوان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے کہ اسے امت کو جوڑنا ہے۔

فنی و فکری تجزیہ: اس نظم میں اسدؔ کا لہجہ انتہائی پرجوش اور خطیبانہ ہے۔ "خطاب بہ نوجوانانِ ملت" اردو شاعری کی اس روایت کا تسلسل ہے جس میں قوم کے معماروں کو بیدار کیا جاتا ہے۔ محمد اسدؔ علی کوٹ مومن کی یہ تخلیق اپنی مقصدیت اور جوشِ بیاں کی بدولت کلیاتِ اسدؔ کا ایک انمول ہیرا ہے۔ اسدؔ کی زیادہ تر شاعری "حقیقی" رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے اور ان کے نزدیک نوجوانوں کا اصل محبوب اور منزل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی ہے۔

حاصلِ کلام: یہ نظم نوجوانوں کو مادی زنجیروں سے آزاد کر کے روحانی بالیدگی عطا کرتی ہے۔ اسدؔ کا پیغام واضح ہے کہ جب تک نوجوان اپنی خودی کو بلند نہیں کرے گا اور راہِ خدا پر یکسو ہو کر نہیں چلے گا، تب تک وہ غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہے گا۔ یہ کلام آج کے دور میں ہر مسلمان نوجوان کے لیے ایک گائیڈ بک کی حیثیت رکھتا ہے۔

از قلم: محمد اسدؔ علی (کوٹ مومن)

Kulliyat-e-Asad | Kot Momin

تبصرے