Disclaimer
دستِبرداری (Disclaimer)
ویب سائٹ "کلیاتِ اَسدؔ" (kulliyat-e-asad.com) پر خوش آمدید۔ اس صفحے کا مقصد قارئین اور صارفین کو اس بلاگ پر موجود مواد کی قانونی حیثیت، ملکیت اور استعمال کے ضوابط سے آگاہ کرنا ہے۔ براہ کرم اس تحریر کو غور سے پڑھیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچا جا سکے۔
1. دانشورانہ ملکیت اور جملہ حقوق
اس بلاگ پر موجود تمام تخلیقی مواد بشمول حمدِ باری تعالیٰ، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ، نظمیں، غزلیں، مسدس، رباعیات، قطعات، متفرق اشعار اور نثری مضامین مکمل طور پر محمد اسدؔ علی کی فکری اور ادبی تخلیق ہیں۔ یہ تمام کلام مصنف کی ذاتی ملکیت ہے اور کاپی رائٹ قوانین کے تحت محفوظ ہے۔
2. مواد کی درستگی کا بیان
ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ کلام کو ٹائپنگ کی اغلاط اور املا کی غلطیوں سے پاک رکھا جائے۔ تاہم، انسان ہونے کے ناطے غلطی کا امکان موجود ہے۔ کلیاتِ اَسدؔ اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ تمام معلومات سو فیصد درست یا مکمل ہیں۔ اگر آپ کو کسی جگہ اصلاح کی ضرورت محسوس ہو تو ہم آپ کی فیڈ بیک کا خیر مقدم کریں گے۔
3. استعمال کی شرائط اور حدود
قارئین کو اس بات کی مکمل اجازت ہے کہ وہ کلام کو اپنے ذوق کے لیے پڑھیں، سوشل میڈیا (فیس بک، واٹس ایپ وغیرہ) پر شیئر کریں یا تعلیمی و مذہبی محافل میں پیش کریں۔ لیکن اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ شاعر کا نام (محمد اسدؔ علی) اور بلاگ کا حوالہ واضح طور پر موجود رہے۔ مصنف کی اجازت کے بغیر کلام میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا تحریف کرنا سختی سے منع ہے۔
4. تجارتی استعمال پر پابندی
اس بلاگ کا کوئی بھی حصہ، شعر یا تخلیق مصنف کی تحریری اجازت کے بغیر کسی کتاب، رسالے، اخبار، یا تجارتی ویب سائٹ پر شائع نہیں کیا جا سکتا۔ کلام کو اپنے نام سے منسوب کرنا یا اس سے مالی فائدہ حاصل کرنا ایک اخلاقی اور قانونی جرم تصور کیا جائے گا جس پر قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھا جاتا ہے۔
5. بیرونی روابط (External Links)
ہمارے بلاگ پر بعض اوقات دوسری ویب سائٹس کے لنکس موجود ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ہم ان بیرونی ویب سائٹس کے مواد یا ان کی پرائیویسی پالیسی کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ صارفین اپنی صوابدید پر ان لنکس کا استعمال کریں۔
6. رضامندی
ہمارے بلاگ کا استعمال کر کے آپ اس دستبرداری (Disclaimer) کی تمام شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ ہم کسی بھی وقت ان شرائط میں تبدیلی کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، جو اسی صفحے پر اپ ڈیٹ کر دی جائیں گی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں