مرے رستے کی یہ رنگیں گلی اب خار کب ہو گی
غزل مرے رستے کی یہ رنگیں گلی اب خار کب ہو گی وہ شمشیر مرے سینے سے اب اس پار کب ہو گی تخیل میں ترے پیکر کا وہ جادو جگاتا ہوں مری آنکھوں میں تصویرِ رخِ دلدار کب ہو گی ترے لب کی وہ جنبش روح کو تڑپا ہی دیتی ہے مری خاموش ہستی محرمِ اسرار کب ہو گی بچھڑ کر تجھ سے شاہِ خوباں، یہ عالم مرے دل کا فقط یادوں کے سائے میں سحر آثار کب ہو گی تری مخمور نظروں کا کوئی صدقہ ہی مل جائے مری تشنہ لبی آخر یہاں سرشار کب ہو گی لکھی ہے مات ہی کیا اب مقدر میں اسدؔ میرے ہماری جیت کی آخر یہاں تکرار کب ہو گی غزل کی روحانی و فلسفیانہ تشریح دیباچہ: محمد اسدؔ علی کی یہ غزل تغزل کے تمام رنگوں سے مزین ہے۔ اس کلام میں شاعر نے مجازی زبان استعمال کرتے ہوئے حقیقت کے ان اسرار کو چھوا ہے جو ایک عاشقِ صادق کے دل پر بیتتے ہیں۔ "کلیاتِ اسدؔ" کی یہ غزل انتظار، تڑپ اور...