اشاعتیں

مرے رستے کی یہ رنگیں گلی اب خار کب ہو گی

غزل مرے رستے کی یہ رنگیں گلی اب خار کب ہو گی وہ شمشیر  مرے سینے سے اب اس پار کب ہو گی تخیل میں ترے پیکر کا وہ جادو جگاتا ہوں مری آنکھوں میں تصویرِ رخِ دلدار کب ہو گی ترے لب کی وہ جنبش روح کو تڑپا ہی دیتی ہے مری خاموش ہستی محرمِ اسرار کب ہو گی بچھڑ کر تجھ سے شاہِ خوباں، یہ عالم مرے دل کا فقط یادوں کے سائے میں سحر آثار کب ہو گی تری مخمور نظروں کا کوئی صدقہ ہی مل جائے مری تشنہ لبی آخر یہاں سرشار کب ہو گی لکھی ہے مات ہی کیا اب مقدر میں اسدؔ میرے ہماری جیت کی آخر یہاں تکرار کب ہو گی غزل کی روحانی و فلسفیانہ تشریح دیباچہ: محمد اسدؔ علی کی یہ غزل تغزل کے تمام رنگوں سے مزین ہے۔ اس کلام میں شاعر نے مجازی زبان استعمال کرتے ہوئے حقیقت کے ان اسرار کو چھوا ہے جو ایک عاشقِ صادق کے دل پر بیتتے ہیں۔ "کلیاتِ اسدؔ" کی یہ غزل انتظار، تڑپ اور...

نظم: خطاب بہ نوجوانانِ ملت

نظم: خطاب بہ نوجوانانِ ملت اے پُر شکوہ ! تُو اپنی ہمت بڑھا کسی غیر کے آگے سر نَے جُھکا سُنی اَن سُنی کر کے دُنیا کی چل تُو ہر حال میں ذکرِ حق ہی سُنا وہی لوگ نغمے ترے گائیں گے تھا پاگل جنہوں نے تجھے کل کہا وفا کی طلب میں تُو کیوں کھو گیا وہ تیری خودی ہی ہے تیری وفا نہ اس راہ چل تُو نہ اس راہ چل وہی راہ چُن جو ہے راہِ خُدا اٹھے کانپ سارا کا سارا نگر زباں میں تو رکھ ایسی گرجے صدا اِدھر دیکھ نَے تو اُدھر دیکھ تو فقط اپنی منزل کا رستہ سجھا وہ خنجر بھی تُو ہے وہ شمشیر بھی وہ دشمن ترے سامنے خاک سا نہ منزل کی چاہت میں تُو بھاگ اب تری ٹھوکروں میں ہے منزل روا خدا ایک ہے، دین بھی ایک ہے لہو بہہ رہا، تو ہے کیوں گم سدا نظم ...

نظم : آؤ تُجھ کو ترا خدا میں دکھاؤں

نظم: آؤ تُجھ کو ترا خدا دکھاؤ آؤ تُجھ کو ترا خدا میں دکھاؤں آج تُجھ کو میں اپنے رب سے ملاؤں عَینِ فطرت کی اک تجلی ہو گی آج وہ کوہِ طور بھی ہو گا خاکِ سُرمہ نہ ہوگی طور کی اب حُسنِ بے پردہ جلوہ گر بھی ہو گا تم نہ غش کھا کے اب گرو گے کہیں ظرفِ مے نوشی پُر اثر بھی ہو گا اب نہ گونجے گی "لَنْ تَرَانِی" صدا رُو بَرُو آج کِبریا ہوگا اُٹھ ہی جائیں گے سب حجابِ بصر سامنے حق کا آئنہ ہوگا چشمِ باطن سے دیکھنا تم اسدؔ تیری ہستی میں وہ چھپا ہو گا نظم "آؤ تُجھ کو ترا خدا میں دکھاؤں" کی بصیرت افروز تشریح دیباچہ اور کلام کا جوہر: محمد اسدؔ علی کی یہ نظم "کلیاتِ اسدؔ" کے فکری ستونوں میں سے ایک ہے۔ یہ نظم محض شاعری نہیں بلکہ "وحدت الشہود" اور "معرفتِ ذات" کا ایک مکمل نص...

تری یادیں مجھے آ کر مسلسل کیوں ستاتی ہیں؟

غزل تری یادیں مجھے آ کر مسلسل کیوں ستاتی ہیں؟ مری ان بے بس آنکھوں کو یہ کیوں آ کر رلاتی ہیں؟ جہاں سے بھی میں گزروں، تو مجھے خوشبو تری آئے کبھی گزرا وہاں سے تھا تو، یہ راہیں بتاتی ہیں تمہیں کیا میں بتاؤں، تم نے دیکھا ہے مرا دلبر؟ وہ آئے تو نگاہیں ساری ہی تکتی رہ جاتی ہیں اسی کی زلف کے سائے مری جاں کا اثاثہ ہیں یہی کالی گھٹائیں مجھ کو تو جینے سکھاتی ہیں اسدؔ اب حال بھی کیا پوچھتے یہ لوگ ہم سے ہیں تمہاری یاد کی حدت، مرا سینہ جلاتی ہیں غزل  کی  تشریح دیباچہ اور غزل کا روحانی رنگ: محمد اسدؔ علی کی یہ غزل ان کے مجموعے "کلیاتِ اسدؔ" کا ایک نہایت حساس اور پرتاثیر کلام ہے۔ بظاہر یہ غزل تغزل کے رنگ میں ہے، لیکن اس کی روح میں عشقِ رسول ﷺ کا وہ جذبہ موجزن ہے جو ایک سچے غلامِ مصطفیٰ ﷺ کا خاصہ ہوتا ہے۔ شاعر کے نزدیک یادوں کا آنا اور آنکھوں کا رونا محض ایک اتفاق نہیں،...

تو کہاں ہے؟

نظم: تو کہاں ہے؟ اے مِرے مالک بتادے، تُو مکاں پر ہے کہاں؟ تُو زمین و فرش پر ہے یا زماں پر ہے کہاں؟ چرخِ نیلی پر بچھے ہیں یہ ستاروں کے نقوش تُو چھپا بادل میں ہے یا کہکشاں پر ہے کہاں؟ بستیاں ویران ہیں اور لٹ رہے ہیں قافلے تیرا وہ انصاف اب اس دورِ جاں پر ہے کہاں؟ ظلم کی اس دھوپ میں جب جل رہے ہیں بے گناہ تیرا وہ سایہ خدایا! سر و جاں پر ہے کہاں؟ رگِ جاں سے بھی زیادہ تُو قریب و پاس ہے پھر یہ دوری کا گماں اس جسم و جاں پر ہے کہاں؟ میں نے ڈھونڈا تجھ کو دیر و کعبہ و بت خانے میں پر تیرا نقشِ قدم اس آستاں پر ہے کہاں؟ خامشی تیری ہے شکوہ، بے بسی میری تڑپ تُو اگر ہے راز تو پھر تُو عیاں پر ہے کہاں؟ بے نشاں ہو کر بھی تیرا ہر طرف چرچا ہے خُوب تُو بتا اے لا مکاں، تُو اس نشاں پر ہے کہاں؟ تُو ہی مالک،...

اس دل کو یاد تیری ستائے تو کیا کروں

غزلِ اسدؔ  اس دل کو یاد تیری ستائے تو کیا کروں اس دل سے یاد تیری نہ جائے تو کیا کروں اونچا ہے در تمہارا یہ سمجھایا دل کو ہے یہ دل سمجھ ہی مجھ سے نہ پائے تو کیا کروں یہ لوگ پوچھتے ہیں کیوں آنسو بہاتے ہو اب یاد اس کی مجھ کو ستائے تو کیا کروں نکلوں تو میں بھی شوق سے اس کی گلی کی سمت وہ در پہ مجھ کو گر نہ بلائے تو کیا کروں رستہ تو جانتا ہوں میں اس کے مکان کا تقدیر ہی نہ مجھ کو لے جائے تو کیا کروں پردہ گرا بھی دوں میں اگر اپنی چشم پر یہ دل کرے جو ہائے ہی ہائے تو کیا کروں ممکن نہیں ہے ملنا اب اس سے مگر اسدؔ خوابوں میں آ کے وہ جو رُلائے تو کیا کروں عشقیہ و صوفیانہ تشریح ۱۔ تمہید: مجازی استعارہ اور حقیقتِ محمدی ﷺ اردو شاعری کی یہ ایک قدیم اور نہایت خوبصورت روایت رہی ہے کہ شاعر بظاہر مجازی محبوب سے ...

وہ ایک چہرہ کہ جس کا جواب کوئی نہیں

غزلِ اسدؔ وہ ایک چہرہ کہ جس کا جواب کوئی نہیں وہ ایک تارا کہ جس کا حساب کوئی نہیں نہ جانے کیسی تھی خوشبو اس ایک رستے کی وہاں پہ مٹی تھی لیکن گلاب کوئی نہیں سجی تھی محفلِ ہستی تو سب ہی روشن تھے مگر وہ شمس تھا جس کا حجاب کوئی نہیں کسی نے زلف کی کالی گھٹا کا ذکر کیا وہ ایک رات تھی جس کا مآب کوئی نہیں قدم جو چومے تو رتبہ ہمیں بھی مل جائے مگر وہ خاک ہے جس کا سراب کوئی نہیں سنا جو لہجہ تو کانوں میں رس ہے گھلنے لگا وہ ایک حرف تھا جس کا عذاب کوئی نہیں اسی کی راہ میں گزری ہے زندگی اپنی اسدؔ وہ در ہے کہ جس کا نقاب کوئی نہیں عمیق ادبی و عرفانی تشریح: کلیاتِ اسدؔ (Kulliyat-e-Asad) دیباچہ و مطلع کی وسعت: محمد اسدؔ علی کی یہ غزل محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ جمالیات اور روحانیت کا ایک بحرِ بے کراں ہے۔ مطلع میں شاعر...