تری یادیں مجھے آ کر مسلسل کیوں ستاتی ہیں؟

غزل

تری یادیں مجھے آ کر مسلسل کیوں ستاتی ہیں؟
مری ان بے بس آنکھوں کو یہ کیوں آ کر رلاتی ہیں؟
جہاں سے بھی میں گزروں، تو مجھے خوشبو تری آئے
کبھی گزرا وہاں سے تھا تو، یہ راہیں بتاتی ہیں
تمہیں کیا میں بتاؤں، تم نے دیکھا ہے مرا دلبر؟
وہ آئے تو نگاہیں ساری ہی تکتی رہ جاتی ہیں
اسی کی زلف کے سائے مری جاں کا اثاثہ ہیں
یہی کالی گھٹائیں مجھ کو تو جینے سکھاتی ہیں
اسدؔ اب حال بھی کیا پوچھتے یہ لوگ ہم سے ہیں
تمہاری یاد کی حدت، مرا سینہ جلاتی ہیں

غزل  کی  تشریح

دیباچہ اور غزل کا روحانی رنگ: محمد اسدؔ علی کی یہ غزل ان کے مجموعے "کلیاتِ اسدؔ" کا ایک نہایت حساس اور پرتاثیر کلام ہے۔ بظاہر یہ غزل تغزل کے رنگ میں ہے، لیکن اس کی روح میں عشقِ رسول ﷺ کا وہ جذبہ موجزن ہے جو ایک سچے غلامِ مصطفیٰ ﷺ کا خاصہ ہوتا ہے۔ شاعر کے نزدیک یادوں کا آنا اور آنکھوں کا رونا محض ایک اتفاق نہیں، بلکہ اس باطنی تڑپ کا اظہار ہے جو ہجرِ مدینہ میں ہر وقت دامن گیر رہتی ہے۔

یادِ مصطفیٰ ﷺ اور گریہء شوق: غزل کے مطلع میں شاعر اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے میرے آقا ﷺ! آپ کی یادیں مجھے ہر لمحہ ستاتی رہتی ہیں۔ یہاں "ستانا" دراصل وہ میٹھا درد ہے جو عاشق کو بے چین رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے محبوب کے تصور سے غافل نہ ہو۔ بے بس آنکھوں کا رونا اس بات کی دلیل ہے کہ شاعر کا دل مدینے کی گلیوں کی طلب میں ہمہ وقت تڑپتا رہتا ہے، اور یہی آنسو اس کی بندگی اور محبت کی معراج ہیں۔

خوشبوئے رسول ﷺ کا احساس: دوسرے شعر میں "خوشبو" کا ذکر دراصل نبی کریم ﷺ کے اس معجزاتی پسینے اور مہک کی طرف اشارہ ہے جس سے مدینے کی گلیاں معطر رہا کرتی تھیں۔ شاعر کا یہ کہنا کہ "جہاں سے بھی میں گزروں، تو مجھے خوشبو تری آئے" اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسے کائنات کے ہر منظر میں اپنے آقا ﷺ کے اسوہء حسنہ کی مہک محسوس ہوتی ہے۔ راہیں اس بات کی گواہ ہیں کہ عشقِ صادق میں انسان کو ہر مقام پر اپنے محبوب کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔

جمالِ مصطفیٰ ﷺ کی سحر انگیزی: تیسرے شعر میں اسدؔ صاحب نے اپنے "دلبر" یعنی حضور ﷺ کے حسن و جمال کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وہ دنیا والوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا تم نے اس ہستی کو دیکھا ہے جن کے حسن کے سامنے چاند بھی شرما جائے؟ جب وہ جلوہ گر ہوتے ہیں تو نگاہوں کا تکتے رہ جانا ایک فطری عمل ہے، کیونکہ انسانی آنکھ ان تجلیات کی تاب نہیں لا سکتی۔ یہ شعر سراسر وارفتگی اور دیدار کی تڑپ کا آئینہ دار ہے۔

زلفِ یار اور رحمت کی گھٹائیں: چوتھے شعر میں محبوب کی زلفوں کو "کالی گھٹاؤں" سے تشبیہ دی گئی ہے جو کہ نعت گوئی کی ایک قدیم اور خوبصورت روایت ہے۔ حضور ﷺ کی زلفِ مبارک کا سایہ شاعر کے لیے زندگی کا سب سے بڑا سہارا (اثاثہ) ہے۔ یہ کالی گھٹائیں دراصل رحمتِ الٰہی کا استعارہ ہیں جو امت کے گناہگاروں کو اپنے دامن میں چھپا لیتی ہیں۔ اسدؔ کے نزدیک جینے کا اصل سلیقہ اسی درِ اقدس کی غلامی میں پوشیدہ ہے۔

سوزِ عشق اور دنیا سے بے نیازی: مقطع میں شاعر اپنی تنہائی اور باطنی سوز کا ذکر کرتا ہے۔ جب انسان عشقِ رسول ﷺ کی آگ میں تپ رہا ہو، تو اسے دنیا والوں کے رسمی حال احوال سے کوئی غرض نہیں رہتی۔ "یاد کی حدت" کا سینہ جلانا اس روحانی تپش کا نام ہے جو انسان کے باطن کو پاک کر دیتی ہے اور اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قریب کر دیتی ہے۔

خلاصہ و فکری نکتہ: محمد اسدؔ علی کی شاعری کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اسدؔ کی زیادہ تر غزلیں "حقیقی" رنگ میں رنگی ہوئی ہیں۔ ان کا اسلوبِ بیان اگرچہ رومانوی معلوم ہوتا ہے، لیکن ان کی فکر کا محور ہمیشہ عشقِ الٰہی اور عشقِ رسول ﷺ رہا ہے۔ اسدؔ کے کلام میں جہاں بھی "محبوب" یا "دلبر" کا ذکر آتا ہے، اس سے مراد ان کے محبوبِ حقیقی یعنی نبیِ آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے، جو کائنات کے لیے سراپا رحمت اور شاعر کے لیے جینے کی واحد وجہ ہیں۔

از قلم: محمد اسدؔ علی

Kulliyat-e-Asad | Kot Momin

تبصرے