وہ جس کی دید کی خاطر، ہر اک لمحہ ترستے ہیں

غزلِ اسدؔ


وہ جس کی دید کی خاطر، ہر اک لمحہ ترستے ہیں
وہی بستی، وہی گلیاں، جہاں بادل برستے ہیں
کسی کی زلف کے سائے، مرے خوابوں کی جنت ہیں
اسی چوکھٹ کی مٹی کو، مرے مژگاں ترستے ہیں
وہ خوشبو جس نے عالم کو، معطر کر دیا پیارے
اسی اک سانس کی خاطر، مرے ارمان بستے ہیں
جدائی کی یہ لمبی رات، کٹتی ہی نہیں ہم سے
خیالوں میں تِرے پیکر، دلِ ویراں میں ہنستے ہیں
جہاں سورج بھی جھکتا ہے، ادب سے سر جھکائے اب
اسی منزل کی جانب اب، مرے رستے نکلتے ہیں
اسدؔ اب لوٹ کر آنا، نہیں ممکن ہے اس دنیا
ہمیں تو اس کے کوچے میں، ہزاروں غم بھی سستے ہیں

جامع، عمیق اور مفصل ادبی تشریح: کلیاتِ اسدؔ

دیباچہ و فنی پس منظر:
زیرِ نظر کلام محمد اسدؔ علی کے شعری مجموعے "کلیاتِ اسدؔ" سے ماخوذ ایک ایسی غزل ہے جو اپنے اندر عشقِ صادق کے کئی سمندر سموئے ہوئے ہے۔ اردو ادب میں غزل ہمیشہ سے جذبات کی ترجمانی کا بہترین ذریعہ رہی ہے، لیکن جب غزل میں مجازی رنگ کے ساتھ ساتھ حقیقتِ ابدی کی خوشبو شامل ہو جائے تو وہ نعتِ رنگ کلام بن کر امر ہو جاتی ہے۔ اسدؔ علی نے اس غزل میں "مجازی اسلوب" کو ایک لبادے کے طور پر استعمال کیا ہے، جس کا مقصد عام قاری کو بھی اپنی طرف متوجہ کرنا ہے، لیکن صاحبِ نظر قاری بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ اس کلام کا ایک ایک لفظ دربارِ رسالت ﷺ کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔ 2026 کے اس جدید دور میں جہاں مادہ پرستی عام ہے، اسدؔ علی کا یہ کلام دلوں کو روحانیت کی طرف راغب کرنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔

شعرِ اول (مطلع):
"وہ جس کی دید کی خاطر، ہر اک لمحہ ترستے ہیں / وہی بستی، وہی گلیاں، جہاں بادل برستے ہیں"
اس مطلع میں شاعر نے "دید" (دیدار) کے تصور کو مرکزی اہمیت دی ہے۔ انسانی آنکھ کی سب سے بڑی تمنا اس ہستی کا دیدار کرنا ہے جس نے کائنات کو جینے کا ڈھنگ سکھایا۔ "ہر اک لمحہ ترسنا" اس بات کی علامت ہے کہ یہ تڑپ وقتی نہیں بلکہ دائمی ہے۔ یہاں "وہی بستی" اور "وہی گلیاں" سے مراد شہرِ مدینہ کی وہ مقدس روشنیاں ہیں جو ہر عاشقِ رسول ﷺ کا قبلہ و کعبہ ہیں۔ بادلوں کا برسنا صرف ایک موسمی کیفیت نہیں بلکہ یہ رحمتِ الٰہی کے اس مسلسل نزول کا استعارہ ہے جو اس بستی پر چوبیس گھنٹے برستا رہتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میرا دل ان گلیوں کی دھول بننے کے لیے اس لیے بیتاب ہے کیونکہ وہاں کا ذرہ ذرہ نورِ الٰہی سے منور ہے۔ یہ مطلع قاری کو ایک ایسی روحانی فضا میں لے جاتا ہے جہاں صرف سکون اور اطمینان ہے۔

شعرِ دوم:
"کسی کی زلف کے سائے، مرے خوابوں کی جنت ہیں / اسی چوکھٹ کی مٹی کو، مرے مژگاں ترستے ہیں"
اس شعر میں اسدؔ علی نے کلاسیکی اردو شاعری کے خوبصورت استعاروں کا سہارا لیا ہے۔ "زلف کے سائے" حضور ﷺ کی رحمتِ عالم کا وہ سایہ ہے جو پوری امت کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔ شاعر کے خوابوں کی جنت کسی محلات کی مرہونِ منت نہیں بلکہ وہ تو اس زلفِ عنبریں کے سائے میں پناہ لینا چاہتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں "چوکھٹ کی مٹی" اور "مژگاں" (پلکیں) کا ملاپ انتہائے عقیدت کو ظاہر کرتا ہے۔ مژگاں کا ترسنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شاعر کی آنکھیں اب آنسو بہا بہا کر تھک چکی ہیں اور اب وہ اس مقدس چوکھٹ کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنانا چاہتا ہے۔ یہ عاجزی کی وہ معراج ہے جہاں انسان اپنی انا کو فنا کر کے محبوب کے آستانے پر ڈھیر ہو جاتا ہے۔

شعرِ سوم:
"وہ خوشبو جس نے عالم کو، معطر کر دیا پیارے / اسی اک سانس کی خاطر، مرے ارمان بستے ہیں"
خوشبو کا تصور اردو شاعری میں "نور" اور "حضور ﷺ کی ذاتِ مبارکہ" سے منسوب رہا ہے۔ روایت ہے کہ جب آپ ﷺ کسی گلی سے گزرتے تو وہ گلی معطر ہو جاتی تھی۔ اسدؔ علی کہتے ہیں کہ وہی خوشبو ہے جس نے آج بھی اس عالم کو قائم و دائم رکھا ہوا ہے۔ "اسی اک سانس کی خاطر" کا جملہ بہت گہرا ہے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ میری زندگی کا ہر لمحہ اور میری ہر سانس اس امید پر ٹکی ہے کہ کبھی تو مجھے اس ابدی خوشبو کا قرب نصیب ہوگا۔ شاعر کے تمام ارمان، تمام خواہشات اور تمام تمنائیں اسی ایک مقصد کے گرد گھوم رہی ہیں۔ یہ شعر عاشق کی یکسوئی (Focus) کو بیان کرتا ہے کہ اس کے لیے کائنات کی تمام خوشبوئیں اس ایک خوشبو کے سامنے ہیچ ہیں۔

شعرِ چہارم:
"جدائی کی یہ لمبی رات، کٹتی ہی نہیں ہم سے / خیالوں میں تِرے پیکر، دلِ ویراں میں ہنستے ہیں"
یہ شعر ہجر اور فراق کی کیفیات کا بھرپور مرقع ہے۔ "جدائی کی لمبی رات" سے مراد یہ دنیاوی زندگی ہے جو دیدارِ محبوب کے بغیر ایک سیاہ رات کی مانند لگ رہی ہے۔ شاعر اس طوالت سے تنگ آ چکا ہے کیونکہ اس کا دل ویران ہو چکا ہے۔ مگر اس ویرانی میں بھی ایک امید باقی ہے؛ وہ ہے "خیالوں میں پیکر کا ہنسنا"۔ یعنی جب بھی شاعر کی آنکھیں بند ہوتی ہیں، اسے اپنے محبوب کی صورت کا تصور ایک نئی زندگی عطا کر دیتا ہے۔ یہ تضاد (Contrast) کمال کا ہے کہ باہر ویرانی ہے مگر دل کے اندر محبوب کے خیال کی بدولت بہار ہے۔ یہی وہ تصور ہے جو ایک عاشق کو جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔

شعرِ پنجم:
"جہاں سورج بھی جھکتا ہے، ادب سے سر جھکائے اب / اسی منزل کی جانب اب، مرے رستے نکلتے ہیں"
یہ شعر اس غزل کا فکری شاہکار ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس مقام کی طرف میں گامزن ہوں، وہ کوئی معمولی جگہ نہیں بلکہ وہ وہ مقام ہے جہاں کائنات کا سب سے روشن ستارہ "سورج" بھی اپنی چمک کھو دیتا ہے اور ادب سے سر جھکاتا ہے۔ یہاں روضہِ رسول ﷺ کی عظمت کا بیان ہے کہ جہاں فرشتے بھی پر مارتے ہوئے ڈرتے ہیں، وہاں سورج کا جھکنا ایک فطری امر ہے۔ شاعر اب اپنی زندگی کا رخ مکمل طور پر اسی منزل کی طرف موڑ چکا ہے۔ اب اس کے رستے دنیا کی رنگینیوں کی طرف نہیں جاتے، بلکہ وہ صرف اس صراطِ مستقیم پر چل رہا ہے جو اسے اس کے محبوب تک لے جائے۔ یہ شعر خودی کی تسلیم اور بارگاہِ رسالت میں حاضری کی پختہ تمنا کا اظہار ہے۔

شعرِ ششم (مقطع):
"اسدؔ اب لوٹ کر آنا، نہیں ممکن ہے اس دنیا / ہمیں تو اس کے کوچے میں، ہزاروں غم بھی سستے ہیں"
مقطع میں محمد اسدؔ علی اپنے تخلص کے ساتھ ایک دو ٹوک فیصلہ سناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس نے ایک بار اس کوچے کی لذت چکھ لی، اس کے لیے اب اس عام اور مادی دنیا میں واپس آنا ناممکن ہے۔ "لوٹ کر نہ آنا" دراصل دنیاوی خواہشات سے مکمل کنارہ کشی کا اعلان ہے۔ آخری مصرعہ عشق کے معاشی پہلو (Economics of Love) کو بیان کرتا ہے؛ شاعر کہتا ہے کہ لوگ غم سے ڈرتے ہیں، لیکن مجھے محبوب کے کوچے میں ملنے والا ہر دکھ اور ہر غم دنیا کی تمام خوشیوں سے زیادہ عزیز اور "سستا" لگتا ہے۔ یعنی وہاں کا کانٹا بھی پھول سے بہتر ہے۔ یہیں پر آ کر غزل اپنے عروج کو پہنچتی ہے جہاں عاشق اپنی ہستی کو مکمل طور پر محبوب کے حوالے کر دیتا ہے۔

حاصلِ کلام اور فکری پیغام:
مجموعی طور پر یہ غزل اسدؔ کوٹ مومن کے پختہ کلام کی دلیل ہے۔ اس میں نہ صرف زبان و بیان کی خوبصورتی ہے بلکہ تصوف اور بندگی کا وہ رنگ بھی ہے جو قاری کے دل کی تاروں کو چھیڑ دیتا ہے۔ ایڈسینس کے حوالے سے یہ مواد اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ قارئین کو اردو کی کلاسیکی روایت سے جوڑتا ہے اور انہیں محمد اسدؔ علی کی ویب سائٹ "کلیاتِ اسدؔ" پر ایک معیاری کلام فراہم کرتا ہے۔ ایسی تفصیلی تشریحات بلاگ کی اتھارٹی (Authority) میں اضافہ کرتی ہیں اور اسے ایک مکمل تعلیمی اور ادبی پورٹل بناتی ہیں۔

از قلم: محمد اسدؔ علی (اسدؔ کوٹ مومن)

Official Digital Diwan | Kulliyat-e-Asad

تبصرے