وہ جو خواب تھا مری آنکھ میں، وہ بکھر گیا تو ملال کیا؟

غزلِ اسدؔ


وہ جو خواب تھا مری آنکھ میں، وہ بکھر گیا تو ملال کیا؟
جو گزر گیا سو گزر گیا، اب اس کا رنج و سوال کیا؟
مری تشنہ لبی کا قصہ ہی، مری زندگی کا اثاث ہے
جو نہ مٹ سکا تری یاد سے، وہ مٹے گا ہجر کا جال کیا؟
میں جلا رہا ہوں چراغِ جاں، تری رہگزر کی اُمید میں
وہ جو شامِ غم کا ہے سلسلہ، اسے چھو سکے گا زوال کیا؟
ترے ہجر کی یہ جو دھوپ ہے، مرے بخت کا ہے یہ معجزہ
جسے پیار ہے تری ذات سے، اسے ڈر ہے کوئی وبال کیا؟
نہ غرض رہی کسی جاہ سے، نہ طلب رہی کسی مال کی
جسے مل گئی تری بندگی، اسے فکرِ جاہ و جلال کیا؟
یہ جو کائنات کا شور ہے، مرے دل کے آگے ہی ماند ہے
جو سکون ہے مرے عشق میں، وہ ملے گا رزمِ بَحال کیا؟
اسدؔ اب تو اپنی پناہ میں، ہمیں رکھ لے مالکِ دوجہاں
جو ترے حضور میں آ گیا، اسے چھو سکے گا ملال کیا؟

جامع و عمیق ادبی تشریح: کلیاتِ اسدؔ (Kulliyat-e-Asad)

مطلع کی فکری جہت: اس غزل کے آغاز میں شاعر محمد اسدؔ علی انسانی جبلت، صبر اور تسلیم و رضا کے گہرے فلسفے کو بیان کرتے ہیں۔ خوابوں کا ٹوٹنا اور آنکھوں میں بکھرنا یقیناً ایک تکلیف دہ عمل ہے، مگر اسدؔ اسے ماضی کا ایک بند باب سمجھ کر بھول جانے کی تلقین کرتے ہیں۔ "جو گزر گیا سو گزر گیا" کا جملہ دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ماضی کی پشیمانیوں اور ناکامیوں میں الجھنے کے بجائے حالات کو قبول کرنا ہی اصل بندگی ہے۔ یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی مسلسل حرکت کا نام ہے اور گزرے ہوئے لمحات پر ماتم کرنا وقت کا ضیاع ہے۔

تشنہ لبی اور ہجر کی وسعت: غزل کے دوسرے اور تیسرے شعر میں تڑپ، پیاس اور امید کے موضوعات کو خوبصورتی سے پرویا گیا ہے۔ اپنی تشنہ لبی یا ادھوری خواہشات کو "اثاثہ" قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ عشق کی راہ میں محرومی ہی دراصل عاشق کی سب سے بڑی دولت ہوتی ہے۔ جب دل کسی کی یاد سے مکمل طور پر معمور ہو جائے، تو پھر دنیاوی رکاوٹیں یا ہجر کے بنے ہوئے جال اسے قید نہیں کر سکتے۔ اسدؔ اپنی زندگی کو ایک چراغِ جاں کی مانند جلا کر اس امید میں وقت گزار رہے ہیں کہ عشق کی راہ میں شامِ غم چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اسے کبھی زوال نہیں چھو سکتا کیونکہ سچی محبت ابدی ہوتی ہے۔

ہجر کا معجزہ اور مقامِ استغنا: چوتھے اور پانچویں شعر میں ہجر کی کڑی دھوپ اور اس کی تکلیف کو ایک "معجزہ" قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک خالص صوفیانہ رنگ ہے جہاں عاشق کے لیے آزمائش بھی ایک انعام بن جاتی ہے۔ شاعر یہ واضح کرتا ہے کہ جس شخص کو بارگاہِ الٰہی میں بندگی کا سچا شرف حاصل ہو جائے، وہ دنیاوی مال و متاع، عہدوں اور مصنوعی جاہ و جلال کی فکر سے مکمل آزاد ہو جاتا ہے۔ یہ مقامِ استغنا ہی وہ حقیقی بادشاہت ہے جو انسان کو کائنات کی ہر چیز سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ جسے محبوب کی چوکھٹ مل جائے، اسے پھر کسی شاہی محل کی ہوس نہیں رہتی۔

مقطع اور ابدی سکون: غزل کے آخری حصے میں قلبی سکون کی اصل حقیقت بیان کی گئی ہے۔ کائنات کا سارا ہنگامہ اور شور، عشق کے خاموش سکون کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ مقطع میں اسدؔ نہایت عاجزی کے ساتھ مالکِ دوجہاں کے حضور التجا کرتے ہیں کہ جب انسان اللہ کی پناہ اور اس کی رحمت کے سائے میں آ جاتا ہے، تو پھر دنیا کا کوئی دکھ، کوئی ملال یا کوئی زوال اسے چھو بھی نہیں سکتا۔ یہ غزل ایک روحانی بے خودی، مکمل سپردگی اور ذاتِ باری تعالیٰ پر کامل بھروسے کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔

فنی محاسن: اس غزل میں "سوال کیا"، "اثاث کیا" اور "زوال کیا" جیسے قوافی نے کلام میں ایک خاص قسم کا استفسار اور گہرائی پیدا کی ہے۔ اسدؔ کوٹ مومن نے سادہ الفاظ میں زندگی اور بندگی کے بڑے حقائق کو بیان کر کے اپنی فنی پختگی کا ثبوت دیا ہے۔

از قلم: محمد اسدؔ علی (اسدؔ کوٹ مومن)

Official Digital Diwan | Kulliyat-e-Asad

تبصرے