یہ عشق ہے کیا؟ کاش کوئی ہم کو بتائے
غزلِ اسدؔ
جامع، عمیق اور مفصل ادبی تشریح: کلیاتِ اسدؔ
دیباچہ و فکری ارتقا:
محمد اسدؔ علی کی یہ غزل "کلیاتِ اسدؔ" (Kulliyat-e-Asad) کا وہ فکری ستون ہے جو عشق کی ماہیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہ محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ایک وجودی مکالمہ ہے۔ کوٹ مومن کے ادبی افق پر ابھرنے والے اس کلام میں صوفیانہ روایات اور تاریخی حقائق کو جس مہارت سے یکجا کیا گیا ہے، وہ قاری کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ یہ تشریح خاص طور پر ان علمی حلقوں کے لیے ہے جو اردو شاعری میں گہرائی اور ایڈسینس (AdSense) کے معیار کے مطابق طویل و جامع مواد کے خواہشمند ہیں۔
شعرِ اول (مطلع):
"یہ عشق ہے کیا؟ کاش کوئی ہم کو بتائے / اس تیرہ دروں دل میں کوئی آگ جلائے"
مطلع میں شاعر نے "تجاہلِ عارفانہ" کی بہترین مثال پیش کی ہے۔ وہ عشق جیسی آفاقی حقیقت سے ناواقفیت کا اظہار کر کے دراصل اس کی وسعت کا اعتراف کر رہے ہیں۔ "تیرہ دروں دل" یعنی وہ باطن جو نورِ حق سے خالی ہو، اس میں آگ جلانے کی تمنا دراصل تڑپ اور معرفت کی خواہش ہے۔ شاعر کے نزدیک عشق وہ شعلہ ہے جو انسانی وجود کی کثافتوں کو جلا کر اسے کندن بنا دیتا ہے۔ یہ سوالیہ انداز قاری کو بھی اس تلاش میں شریک کر لیتا ہے کہ عشق کی اصل حقیقت آخر ہے کیا؟
شعرِ دوم و سوم (دشتِ ملامت اور منصور):
دوسرے شعر میں "دشتِ ملامت" کا استعارہ زندگی کی اس کڑی آزمائش کو ظاہر کرتا ہے جہاں دنیا والے عاشق پر طنز کے نشتر چلاتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اس وحشت میں رہتے ہوئے صدیاں گزر گئیں، اب کوئی ایسا نہیں جو اس خود ساختہ قید سے آزادی دلائے۔ تیسرے شعر میں منصور حلاج کی تلمیح استعمال کی گئی ہے۔ "رقصِ سرِ دار" (سولی پر ناچنا) عشق کی وہ انتہا ہے جہاں انسان اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتا۔ اسدؔ علی کہتے ہیں کہ جب عشق سچا ہو تو وہ انسان کی ہستی کو مٹاکر اسے زمانے کے لیے ایک "تماشا" یا سبق بنا دیتا ہے، لیکن یہی تماشا ابدیت کی ضمانت ہے۔
شعرِ چہارم و پنجم (سقراط کی صداقت اور خوابوں کی تمنا):
چوتھے شعر میں یونانی فلسفی سقراط کا ذکر کر کے شاعر نے حق گوئی کی قیمت متعین کی ہے۔ "زہر کا پیالہ" پینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، لیکن جو حق کو سامنے لانا چاہتا ہے، اسے اس تلخی سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ پانچویں شعر میں ہجر کی طوالت اور بے خوابی کا ذکر ہے۔ شاعر صدیوں سے اس امید پر جاگ رہا ہے کہ شاید کسی رات محبوب خوابوں کے دریچے سے ہی جھلک دکھا جائے۔ یہ انتظار کی وہ کیفیت ہے جو عاشق کے صبر کا امتحان لیتی ہے۔
شعرِ ششم و ہفتم (آتشِ نمرود اور تجلیِ طور):
چھٹے شعر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تلمیح سے ہجر کے عالم کو تشبیہ دی گئی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہجر کی یہ آگ نمرود کی دہکتی آگ جیسی ہے، اور اس میں صرف وہی بچ سکتا ہے جس کے اندر خلیل علیہ السلام جیسا ایمان اور توکل ہو۔ ساتویں شعر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور طور کا ذکر کر کے "ادراک کے شعلے" کی بات کی گئی ہے۔ جس طرح طور کی تجلی نے پہاڑ کو راکھ کر دیا تھا، ویسے ہی جب حق کا ادراک ہوتا ہے تو انسانی انا خاک میں مل جاتی ہے۔ یہ فنا کا وہ مقام ہے جہاں صرف خالق باقی رہ جاتا ہے۔
شعرِ ہشتم و نہم (نوحۂ ہستی اور حالتِ زار):
آٹھویں شعر میں شاعر نے محبت کی تعریف کو "نوحۂ ہستی" (زندگی کا ماتم) قرار دیا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ انسان آخر کب تک ہجر کی اس کڑی دھوپ کو برداشت کر سکتا ہے؟ نویں شعر میں در در کی ٹھوکریں، قیدِ قفس اور تمناؤں کی موت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ یہ شعر ایک شکستہ دل انسان کی تصویر کشی کرتا ہے جو عشق کی راہ میں اپنا سب کچھ لٹا کر اب ایک بے بس مسافر کی طرح کھڑا ہے۔
مقطع (گردِ ملامت اور اجل):
"بیٹھا ہے اسدؔ اوڑھ کے اب گردِ ملامت / شاید کہ اجل آ کے اسے گلے لگائے"
مقطع میں محمد اسدؔ علی نے دنیا سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ "گردِ ملامت اوڑھنا" قلندرانہ روش ہے جہاں انسان دنیا کی پرواہ کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں موت (اجل) کو ایک دہشت ناک چیز کے بجائے ایک مہربان دوست کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو آ کر تمام دکھوں کا خاتمہ کر دے گی۔ یہ صوفیانہ فکر "موتوا قبل ان تموتوا" (مرنے سے پہلے مرجاؤ) کی عکاسی کرتی ہے، جہاں موت وصالِ محبوب کا ذریعہ بنتی ہے۔
حاصلِ کلام:
محمد اسدؔ علی کی یہ غزل اپنے اندر علم، تاریخ اور روحانیت کا ایک جہان سمیٹے ہوئے ہے۔ "کلیاتِ اسدؔ" کی یہ تحریر نہ صرف اردو ادب کا قیمتی اثاثہ ہے بلکہ ڈیجیٹل دور میں معیاری کلام کی تلاش کرنے والوں کے لیے ایک بہترین علمی مرجع ہے۔
مزید منتخب کلام کلیاتِ اسدؔ:
از قلم: محمد اسدؔ علی (اسدؔ کوٹ مومن)
Official Digital Diwan | Kulliyat-e-Asad
wha kya kha mery bhi
جواب دیںحذف کریں