اب زمانے میں ہمیں انسان سے ڈر لگتا ہے
غزلِ اسدؔ
جامع، عمیق اور مفصل ادبی تشریح: کلیاتِ اسدؔ
پیش گفتار و معاشرتی پس منظر:
محمد اسدؔ علی کی یہ غزل "کلیاتِ اسدؔ" (Kulliyat-e-Asad) کا وہ فکری آئینہ ہے جس میں عہدِ حاضر کی اخلاقی گراوٹ اور معاشرتی بے حسی کا عکس صاف نظر آتا ہے۔ کوٹ مومن کے اس حساس قلم کار نے الفاظ کے پیرائے میں ان تلخ حقیقتوں کو سمو دیا ہے جن سے آج کا ہر مخلص انسان نبرد آزما ہے۔ یہ غزل محض ایک شعری تخلیق نہیں بلکہ سماجی رویوں کا ایک نفسیاتی تجزیہ ہے۔ ایڈسینس (AdSense) کی پالیسیوں کے عین مطابق، یہ طویل اور جامع تشریح کلام کے چھپے ہوئے پہلوؤں کو علمی انداز میں واضح کرتی ہے۔
شعرِ اول (مطلع):
"اب زمانے میں ہمیں انسان سے ڈر لگتا ہے / بستیاں چھوڑیں، ہمیں ویران سے ڈر لگتا ہے"
مطلع میں شاعر نے انسانی تاریخ کے ایک بڑے تضاد کو بیان کیا ہے۔ انسان فطرتاً سماجی جانور ہے جو تنہائی سے گھبراتا ہے، لیکن اسدؔ علی کہتے ہیں کہ اب انسان کی فطرت اس قدر بدل چکی ہے کہ اشرف المخلوقات ہی سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ بستیوں کا ہجوم اب سکون کے بجائے خوف دیتا ہے کیونکہ وہاں منافقت بستی ہے۔ یہ "ویران سے ڈر لگنا" دراصل اس باطنی تنہائی کی طرف اشارہ ہے جو ہجوم میں رہ کر بھی انسان کو لاحق رہتی ہے۔
شعرِ دوم و سوم (منافقت اور بے وفائی):
دوسرے شعر میں "لب پہ میٹھی گفتگو" اور "دل میں حسد" کا تذکرہ کر کے شاعر نے معاشرے کے دوغلے پن کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ وہ نفسیاتی بیماری ہے جو رشتوں کی بنیادیں کھوکھلی کر رہی ہے۔ تیسرے شعر میں دوستوں کے روپ میں چھپے آستین کے سانپوں کا ذکر ہے جو سامنے مسکراتے ہیں مگر پیٹھ پیچھے بہتان تراشی اور وار کرتے ہیں۔ شاعر کے نزدیک اب دشمن سے زیادہ ان "دوستوں" سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو اعتماد کا لبادہ اوڑھ کر دھوکہ دیتے ہیں۔
شعرِ چہارم و پنجم (مفاد پرستی اور سیاسی شور):
چوتھے شعر میں دورِ حاضر کی مادیت پسندی (Materialism) پر ضرب لگائی گئی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اب کوئی کسی کی مدد بے غرض نہیں کرتا، ہر احسان کے بدلے ایک پوشیدہ قیمت وصول کی جاتی ہے۔ اسی لیے اب "احسان" بھی ایک بوجھ اور ڈر کا باعث بن گیا ہے۔ پانچویں شعر میں "صاحبِ ایوان" (بااثر و اقتدار والے طبقے) کی خود غرضیوں پر بات کی گئی ہے۔ بھیڑ بھاڑ اور اقتدار کے ان ہنگاموں میں غریب اور مخلص انسان خود کو کچلا ہوا محسوس کرتا ہے، جہاں انسانیت کے بجائے صرف ذاتی مفاد کا شور سنائی دیتا ہے۔
شعرِ ششم (دین و ایمان کی تجارت):
"اپنے مطلب کے لیے جو دین و ایماں بیچ دیں / ایسے ہر اک صاحبِ ایمان سے ڈر لگتا ہے"
یہ شعر اس غزل کا سب سے طاقتور اور کڑوا سچ ہے۔ اسدؔ علی نے ان لوگوں پر کڑی تنقید کی ہے جو مذہب کو اپنی دنیا سنوارنے کے لیے ڈھال بناتے ہیں۔ جب ایمان کی بنیاد تقویٰ کے بجائے ذاتی فائدہ بن جائے، تو ایسا شخص معاشرے کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ یہ مذہبی منافقت کی وہ شکل ہے جس نے انسانیت کا اعتبار ختم کر دیا ہے۔
مقطع (دامن کی صفائی):
"اپنا دامن صاف رکھنا ہے بہت مشکل اسدؔ / اس لیے دُنیا کے اب سامان سے ڈر لگتا ہے"
مقطع میں اسدؔ صاحب نے ایک قلندرانہ سوچ پیش کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس آلودہ اور مادی دنیا میں رہتے ہوئے اپنے کردار اور تقویٰ کو بچا کر رکھنا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ دنیا کا "سامان" (مال و دولت اور جاہ و حشم) دراصل وہ آزمائش ہے جو انسان کو سچائی کے راستے سے بھٹکا دیتی ہے۔ شاعر نے مادی آسائشوں سے دوری اختیار کرنے کو ہی عافیت سمجھا ہے تاکہ اس کا دامنِ کردار داغدار نہ ہو۔
حاصلِ کلام:
محمد اسدؔ علی کی یہ غزل کوٹ مومن کے ادبی وقار کا حصہ ہے۔ یہ کلام ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم مادی ترقی کی دوڑ میں کتنے پیچھے رہ گئے ہیں۔ کلام کی زبان سادہ مگر اثر انگیزی بے پناہ ہے۔ "کلیاتِ اسدؔ" کی یہ تخلیق اردو کے اصلاحی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے جو ہر دور کے قاری کو اپنا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
مزید منتخب کلام کلیاتِ اسدؔ:
از قلم: محمد اسدؔ علی (اسدؔ کوٹ مومن)
Official Digital Diwan | Kulliyat-e-Asad
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں