تیرا ذکر ہے دل کا اجالا، لا الہٰ الا اللہ
حمدِ باری تعالیٰ
جامع تشریح و فکری تجزیہ
فکرِ مطلع: زیرِ نظر حمدِ باری تعالیٰ میں شاعر محمد اسدؔ علی اللہ رب العزت کی وحدانیت کا اقرار ایک خاص والہانہ انداز میں کر رہے ہیں۔ کلام کا آغاز اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ انسانی دل جب تک دنیاوی آلائشوں میں گھرا رہتا ہے، تاریک رہتا ہے، لیکن جیسے ہی اس میں "لا الہٰ الا اللہ" کا نور داخل ہوتا ہے، وہ اجالوں کا مسکن بن جاتا ہے۔ شاعر کے نزدیک ذکرِ الٰہی صرف زبان کی جنبش نہیں بلکہ روح کی بالیدگی کا ذریعہ ہے۔
کائناتی شہادت: کلام کے اگلے اشعار میں کائنات کے ذرے ذرے کو اللہ کی گواہی دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ درخت کا ہر پتا، صحرا کا ہر بوٹا اور گلشن کی ہر کلی اپنی خاموش زبان سے اسی ایک خالق کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔ یہ فکر قرآن پاک کی اس آیت کی عکاسی کرتی ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ پھولوں کی رنگت اور تاروں کی خوشبو میں شاعر کو اللہ کی کاریگری اور اس کا جمال نظر آتا ہے، جو ہر سو بکھرا ہوا ہے۔
آفاقی حاکمیت: شاعر بیان کرتے ہیں کہ اللہ کا نام صرف بستیوں تک محدود نہیں بلکہ دشت و جبل اور بحر و بر (سمندر اور زمین) کی وسعتوں میں بھی اسی کا نعرہ گونج رہا ہے۔ آسمانی اجسام جیسے سورج اور چاند بھی اپنی روشنی کے لیے اللہ کے محتاج ہیں۔ سورج کی تپش ہو یا چاند کی ٹھنڈک، یہ سب اسی "روشن تارے" یعنی نورِ الٰہی کے پرتو ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کائنات کا پورا نظام ایک ہی مرکز کے گرد گھوم رہا ہے۔
روحانی تسکین اور مقطع: انسانی نفسیات پر ذکرِ الٰہی کے اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے اسد علی کہتے ہیں کہ خوف اور پریشانی کے بادل صرف اسی صورت میں چھٹ سکتے ہیں جب دل اللہ کے ذکر سے معمور ہو۔ یہ ذکر دلوں کے اطمینان کا ضامن ہے۔ مقطع میں شاعر اپنے آپ کو مخاطب کر کے شکر گزاری کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ اللہ کو "خالقِ اکبر" پکار کر اس کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے انسان کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا بلکہ توحید کا وہ سہارا عطا کیا جو دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔
مزید حمدیہ کلام (کلیاتِ اسد)
از قلم: محمد اسدؔ علی
Kulliyat-e-Asad | Kot Momin Poetry
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں