اگر تو بسا بستیوں میں تو بتلا
حمدِ باری تعالیٰ
جامع ادبی و فکری تشریح (تفصیلی)
۱۔ ہمہ گیریت اور مقامِ حیرت: شاعر محمد اسدؔ علی نے کائنات کے دو متضاد مظاہر یعنی 'بستی' (کثرت) اور 'ویرانہ' (وحدت) کو بنیاد بنا کر اللہ کی ہمہ گیریت پر سوال اٹھایا ہے۔ "چُپ سدھانا" ایک ایسی نادر ترکیب ہے جو اس ہیبت ناک سناٹے کی عکاسی کرتی ہے جہاں انسانی عقل مفقود ہو جاتی ہے۔ شاعر کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر رونقوں میں تیرا جلوہ ہے، تو اس ہولناک سناٹے میں بھی تیرے سوا کوئی دوسرا موجود نہیں ہو سکتا۔ یہ دراصل "لا موجود الا اللہ" کی صوفیانہ منزل ہے۔
۲۔ ظاہر و باطن کا تال میل: تسبیح کا دانہ یہاں "ظاہر" اور شکستہ دل "باطن" کی علامت ہے۔ شاعر ایک بہت بڑا نکتہ بیان کرتا ہے کہ اگر تسبیح کے دانوں میں تیرا نام رواں ہے تو ٹوٹے ہوئے دل کی آہ میں بھی تو ہی پکار رہا ہے۔ یہ شعر اس حدیثِ قدسی کا شعری ترجمہ ہے کہ اللہ ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہے۔ گویا اللہ کی رسائی صرف خانقاہوں یا عبادتوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ انسانی درد اور ٹوٹ پھوٹ میں بھی پوری شدت سے موجود ہے۔
۳۔ تلمیحِ طور و خلیلؑ: اس کلام میں حضرت موسیٰؑ اور حضرت ابراہیمؑ کی تلمیحات کو ایک نئے زاویے سے پیش کیا گیا ہے۔ طور پر تجلیِ باری دیکھ کر موسیٰؑ کا بے ہوش ہونا ایک واقعہ ہے، مگر شاعر کہتا ہے کہ اس بے قراری اور اس "افسانے" کے پیچھے بھی تو ہی محرک تھا۔ اسی طرح، اگر بتوں کو توڑنے والی خلیلؑ کی کلہاڑی کی "ضربت" میں تیری قوت تھی، تو آذر کے بت خانے کے ذرے ذرے میں بھی تیری ہی کاریگری چھپی تھی۔ یہ وحدت الوجود کا وہ مقام ہے جہاں خالق اور تخلیق کے درمیان دوئی کا پردہ اٹھ جاتا ہے۔
۴۔ کعبہ، بت خانہ اور ہمہ اوست: شاعر نے اہلِ ظاہر کے اس نظریے کو چیلنج کیا ہے جو خدا کو مخصوص جگہوں تک محدود سمجھتے ہیں۔ اگر کعبہ اللہ کا گھر ہے، تو بت خانہ بھی اسی کی کائنات کا حصہ ہے۔ اگر وہ کعبے میں موجود ہے، تو کائنات کی کسی بھی جگہ کو اس کے نور سے خالی قرار دینا ممکن نہیں۔ یہ کلام "وحدت الوجود" کی بلند ترین سطح پر قاری کے ذہن کو وسعت دیتا ہے کہ اللہ کو صرف سجدہ گاہوں میں نہیں، ہر سو تلاش کرو۔
۵۔ حقیقتِ انسانی اور مقطع: مقطع میں شاعر اسدؔ نے اپنی ہستی کی نفی کر دی ہے۔ "رگوں میں لہو" زندگی کی علامت ہے، اور "مٹتا کاشانہ" اس فانی جسم کی حقیقت۔ جب زندگی کی رمق (خون) ہی نورِ حق سے عبارت ہے، تو پھر انسان کا اپنی "انا" یا "میں" کا دعویٰ کرنا محض ایک سراب ہے۔ گویا جب "سب تو ہی تو ہے" تو اسدؔ کی اپنی ہستی کا کیا وجود؟
حاصلِ کلام: محمد اسدؔ علی کی یہ حمد محض ایک نظم نہیں بلکہ معرفتِ الٰہی کا ایک سمندر ہے۔ یہ قاری کو اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ، ہر پکار اور ہر وجود دراصل اسی ایک ذاتِ واحد کا عکس ہے۔ یہ Kulliyat-e-Asad کا وہ فکری اثاثہ ہے جو ادب اور تصوف کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔
Kulliyat-e-Asad: مزید حمدیہ کلام
از قلم: محمد اسدؔ علی
Poet | Developer | Kot Momin | Kulliyat-e-Asad
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں