رحمٰن بھی تو، رحیم بھی تو
حمدِ باری تعالیٰ
جامع صفاتی و صوفیانہ تشریح
۱۔ اسماء الحسنیٰ کا فکری سنگم: اس حمد کا ڈھانچہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں پر مبنی ہے۔ شاعر محمد اسدؔ علی نے بندگی کے اس سفر میں اللہ کو ایک شفیق خالق کے طور پر پیش کیا ہے۔ "رحمٰن" اور "رحیم" کی تکرار اس حقیقت کی عکاسی ہے کہ اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔ آخری مصرعے میں قرآن کا حوالہ براہِ راست باری تعالیٰ کی وحدانیت اور عظمت کی مہر ثبت کرتا ہے۔
۲۔ لسانی محاسن اور نادر الفاظ: کلام میں "منیر" (روشن کرنے والا) اور "حمیر" (پناہ گاہ) جیسے الفاظ کا استعمال فنی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اللہ کو "قدیم" کہنا اس کی ازلیت کا اعتراف ہے، یعنی وہ ذات جو کائنات کی تخلیق سے پہلے بھی تھی اور اختتام کے بعد بھی رہے گی۔ "رازِ دروں کا خبیر" ہونا انسانی باطن کے ان گوشوں کی طرف اشارہ ہے جو دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔
۳۔ عجزِ بندگی اور اعترافِ خطا: حمد کے آخری حصے میں انسانی فطرت کے کمزور پہلو کو "سرشار" اور "بدکار" کے الفاظ سے واضح کیا گیا ہے۔ تاہم، یہاں ناامیدی کے بجائے رجائیت کا پہلو نمایاں ہے؛ شاعر کا یہ یقین کہ گناہوں کے سمندر میں ڈوبے ہونے کے باوجود اسے "ستار" اور "غفور" رب کا سہارا میسر ہے، توبہ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
حاصلِ کلام: محمد اسدؔ علی کی یہ حمد اللہ کی صفات کو اس ترتیب سے پیش کرتی ہے کہ قاری کے دل میں ہیبت کے بجائے محبتِ الٰہی بیدار ہوتی ہے، جو کہ اصلِ بندگی اور "کلیاتِ اسدؔ" کا خاصہ ہے۔
کلیاتِ اسدؔ: دیگر حمدیہ کلام
از قلم: محمد اسدؔ علی
Kulliyat-e-Asad | Kot Momin Poetry
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں