اے خالقِ دو عالم ! تُو مالکِ دوراں ہے

حمدِ باری تعالیٰ

اے خالقِ دو عالم ! تُو مالکِ دوراں ہے
ہر ذرے کی آنکھوں میں تیرا ہی گلستاں ہے
روشن ہیں تری خاطر یہ شمس و قمر ایسے
جیسے کہ کسی در پر اک شعلہِ لرزاں ہے
ظلمت کے سمندر میں تُو نور کا ساحل ہے
تقدیر کی کشتی کا تُو ہی تو نگہباں ہے
ہر سانس جو لیتے ہیں، مرہونِ کرم تیرے
ہر رگ میں جو جاری ہے، وہ تیرا ہی احساں ہے
تو رزق جو دیتا ہے کیڑوں کو بھی پتھر میں
جو حکمِ خدا سے روشن مہرِ درخشاں ہے
مومن کی اداؤں میں ، طائر کی زبانوں میں
بندوں کا مرے مولیٰ ! تو ہی تو قدرداں ہے
دے اِذنِ لقا تو اسدِؔ سوختہ جاں کو اب
میں تو وہ  مدینہ دیکھوں یہ مرا ارماں ہے

حمدیہ کلام کی جامع و تفصیلی تشریح

مطلع کی تشریح: اس حمد کے پہلے شعر میں شاعر محمد اسد علی اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ مطلقہ کا اعتراف کرتے ہوئے اسے دونوں جہانوں کا خالق اور وقت کا مالک قرار دیتے ہیں۔ کائنات کا ہر چھوٹا سے چھوٹا ذرہ اللہ کی خلاقی کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ شاعر کے نزدیک کائنات کی خوبصورتی اور رعنائی اصل میں ربِ ذوالجلال کے وجود کا عکس ہے، جو ہر آنکھ کو اس کی قدرت کے گلستاں کی سیر کرواتا ہے۔

افلاک اور قدرتِ الٰہی: دوسرے اور تیسرے شعر میں کائناتی مظاہر یعنی سورج اور چاند کی مثال دی گئی ہے۔ اللہ کی عظمت اتنی بلند ہے کہ یہ عظیم الشان روشن ستارے اس کے دربار میں محض ایک کانپتے ہوئے چراغ کی مانند لگتے ہیں۔ جب انسان زندگی کی تاریکیوں اور پریشانیوں کے سمندر میں گھِر جاتا ہے، تو اللہ کی ذات ہی وہ "نور کا ساحل" بن کر ابھرتی ہے جو اسے سہارا دیتی ہے۔ انسان کی تقدیر کی کشتی کسی موج کی زد میں نہیں آتی کیونکہ اس کا اصل نگہباں اللہ خود ہے۔

انسانی وجود اور رزاقیت: چوتھے اور پانچویں شعر میں شاعر انسانی زندگی کی حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔ ہماری ہر سانس اور رگوں میں دوڑتا ہوا لہو اللہ کا وہ احسان ہے جسے ہم کبھی چکا نہیں سکتے۔ اللہ کی صفتِ رزاقیت کا یہ عالم ہے کہ وہ پتھر کی تہوں میں موجود بے جان نظر آنے والے کیڑوں کو بھی زندگی اور رزق فراہم کرتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات کا نظام کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک قادرِ مطلق کے حکمِ درخشاں کے تابع ہے۔

دعا اور مقطع: آخری اشعار میں بندگی کا عروج نظر آتا ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ہو یا مومن کی عبادت، اللہ ہر ایک کی پکار کا قدردان ہے۔ مقطع میں شاعر اپنے تخلص "اسد" کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں التجا کرتے ہیں کہ اے اللہ! میری تڑپتی ہوئی روح کو اب مدینہ کی زیارت نصیب فرما۔ شاعر کے نزدیک اللہ کی قربت کا بہترین راستہ مدینے کی گلیوں سے ہو کر گزرتا ہے، اور یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا ارمان ہے۔

از قلم: محمد اسدؔ علی

Kulliyat-e-Asad | Digital Diwan

تبصرے