مدینہ مدینہ دکھا دے مدینہ
نعت: شوقِ مدینہ
نعت "شوقِ مدینہ" کی مفصل فکری و قلبی تشریح
دیباچہ و وجدانی پس منظر: محمد اسدؔ علی کی یہ نعت ان کے مجموعہ کلام "کلیاتِ اسدؔ" کا ایک نہایت ہی جذباتی اور پر اثر حصہ ہے۔ اس کلام کا رشتہ براہِ راست اس تڑپ سے ہے جو ایک سچے عاشق کے دل میں دیارِ حبیب ﷺ کے لیے موجزن ہوتی ہے۔ ردیف "مدینہ" کی مستقل تکرار نے پوری نعت میں ایک ایسا حصار قائم کر دیا ہے جو قاری کو روحانی طور پر گنبدِ خضریٰ کے سائے تلے لے جاتا ہے۔
فکری و روحانی تجزیہ: شاعر نے مدینہ منورہ کو محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ "دلوں کی بے چینی کا چین" قرار دے کر انسانی اضطراب کا حل پیش کیا ہے۔ جب دنیا کی تلخیاں انسان کو تھکا دیتی ہیں، تو اس کا واحد ٹھکانہ وہی در ہے جہاں سے رحمتیں تقسیم ہوتی ہیں۔ "اشکوں سے آتی صدا ہے مدینہ" ایک ایسا مصرعہ ہے جو لفظوں سے بڑھ کر احساس کی ترجمانی کرتا ہے۔ شاعر کی التجا کہ "نصیبوں میں لکھ دے پناہِ مدینہ" اس ابدی تحفظ کی طلب ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت کے تمام اندیشوں سے بے نیاز کر دیتی ہے۔
استعاراتی حسن اور قلبی تڑپ: نعت میں "ہوا" کا استعارہ نہایت اچھوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بادِ صبا جب مدینے کی گلیوں سے گزرتی ہے تو وہ محض ہوا نہیں رہتی بلکہ اپنے ساتھ زائرین کی "آہِ مدینہ" اور وہاں کی خوشبو لے کر آتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ قدرت بھی عشاق کے جذبوں کی گواہ ہے۔ دل پر "چھاپِ مدینہ" کا ہونا اس مکمل استغراق کو ظاہر کرتا ہے جہاں شاعر کو کائنات کے ہر جلوے میں اپنے محبوب ﷺ کے شہر کا عکس نظر آنے لگتا ہے۔ لبوں پر "صلاۃ و سلام" کی مداومت اس قلبی تعلق کا ثبوت ہے جو ایک نعت گو کا اپنے نبی ﷺ سے ہوتا ہے۔
حاصلِ کلام و آخری آرزو: مقطع میں اسدؔؔ صاحب نے اپنی عقیدت کی معراج پیش کی ہے۔ ان کی یہ دعا کہ ان کا مقدر مدینہ میں لکھا جائے اور موت کے بعد ان کا کفن "خاکِ مدینہ" بنے، اس آرزو کا اظہار ہے کہ زندگی کا سفر جہاں سے شروع ہوا، اختتامِ زیست پر مٹی بھی وہی نصیب ہو جو قدمینِ مصطفیٰ ﷺ سے مس ہوئی ہے۔ یہ والہانہ پن اور تمنائے مرگ درِ رسول ﷺ پر ہی ایک سچے نعت گو کا منتہائے مقصود ہے۔
کلیاتِ اسدؔ: دیگر منتخب کلام
از قلم: محمد اسدؔ علی
Kulliyat-e-Asad | Kot Momin
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں