اب زمانے میں ہمیں انسان سے ڈر لگتا ہے

غزلِ اسدؔ

اب زمانے میں ہمیں انسان سے ڈر لگتا ہے
بستیاں چھوڑیں، ہمیں ویران سے ڈر لگتا ہے
لب پہ میٹھی گفتگو اور دل میں رکھتے ہیں حسد
مجھ کو ان لوگوں کی ہر پہچان سے ڈر لگتا ہے
سامنے ہنستے ہیں لیکن پیٹھ پیچھے وار ہے
دوستوں کی بھی ہمیں بہتان سے ڈر لگتا ہے
بے غرض ملتا نہیں اب کوئی بھی اس دور میں
مجھ کو ان کے تو ہر ایک احسان سے ڈر لگتا ہے
جس طرف دیکھو یہاں خود غرضیوں کا شور ہے
بھیڑ میں اب صاحبِ ایوان سے ڈر لگتا ہے
پھول کی خواہش میں کانٹے بانٹتے ہیں ہاتھ یہ
باغباں کے اس عملِ نادان سے ڈر لگتا ہے
حق کی خاطر اب کوئی کٹتا نہیں ہے دار پر
وقت کے اس صاحبِ فرمان سے ڈر لگتا ہے
اپنے مطلب کے لیے جو دین و ایماں بیچ دیں
ایسے ہر اک صاحبِ ایمان سے ڈر لگتا ہے
اپنا دامن صاف رکھنا ہے بہت مشکل اسدؔ
اس لیے دُنیا کے اب سامان سے ڈر لگتا ہے

جامع ادبی و فکری تشریح (تفصیلی)

۱۔ سماجی اضطراب اور انسانی رویے: شاعر محمد اسدؔ علی نے اس غزل میں معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ مطلع میں "انسان" سے ڈر لگنے کا تذکرہ دراصل اس وحشت کی عکاسی ہے جو اشرف المخلوقات کے بدلتے ہوئے بھیانک روپ سے پیدا ہوئی ہے۔ "بستیاں چھوڑنا" اس مایوسی کی انتہا ہے جہاں شاعر کو انسانوں کی بھیڑ سے زیادہ ویرانوں کی تنہائی پر امن محسوس ہوتی ہے۔ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ آج کا انسان اپنے ہم جنس کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

۲۔ منافقت اور دوغلا پن: لبوں پر مٹھاس اور دل میں حسد کا ہونا اس دور کا عام معاشرتی المیہ ہے۔ شاعر نے "پہچان" سے ڈر لگنے کی جو بات کی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اب چہروں پر چہرے چڑھے ہوئے ہیں اور یہ جاننا ناممکن ہے کہ کون مخلص ہے اور کون دشمن۔ دوستوں کے "بہتان" کا ذکر رشتوں کے اعتبار کے خاتمے کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب پیٹھ پیچھے وار کرنے والے اپنے ہی ہوں، تو انسان کی زندگی ایک مسلسل خوف میں بدل جاتی ہے۔

۳۔ مقتدر طبقات کی بے حسی (سیاسی پہلو): غزل میں "صاحبِ ایوان"، "باغباں" اور "صاحبِ فرمان" جیسی اصطلاحات علامتی طور پر ان لوگوں کے لیے استعمال ہوئی ہیں جن کے ہاتھ میں معاشرے کی باگ ڈور ہے۔ "عملِ نادان" سے مراد وہ غلط فیصلے ہیں جو عام آدمی کے لیے سہولت کے بجائے مشکلات (کانٹے) پیدا کرتے ہیں۔ حق کی خاطر دار پر چڑھنے والوں کی کمی اور وقت کے حاکموں کی بے حسی کو شاعر نے نہایت دلیری سے بیان کیا ہے۔

۴۔ مذہبی تجارت اور خود غرضی: ایک نہایت حساس نکتہ ان لوگوں کے بارے میں اٹھایا گیا ہے جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے "دین و ایماں" کا سودا کر لیتے ہیں۔ ایسے "صاحبِ ایمان" سے ڈر لگنا اس معاشرتی حقیقت کی طرف اشارہ ہے جہاں مذہب کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ شعر موجودہ دور کی سب سے بڑی مذہبی اور اخلاقی بددیانتی پر کڑی ضرب ہے۔

۵۔ فنائے ذات اور مقطع: مقطع میں شاعر اسدؔ علی ایک صوفیانہ اور درویشانہ رنگ اختیار کرتے ہیں۔ "اپنا دامن صاف رکھنا" اس آلودہ معاشرے میں سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ دنیا کے "سامان" (مادی آسائشوں) سے ڈرنا اس فکری بلندی کو ظاہر کرتا ہے جہاں انسان مادی ترقی کو اپنے روحانی وجود اور کردار کے لیے خطرہ سمجھنے لگتا ہے۔ یہ غزل قاری کو مادی دنیا کے دھوکے سے نکال کر اپنے کردار کی تطہیر کی طرف راغب کرتی ہے۔

حاصلِ کلام: "ڈر لگتا ہے" محض ایک ردیف نہیں بلکہ ایک چیخ ہے اس معاشرتی بے حسی کے خلاف جہاں انسانیت دم توڑ رہی ہے۔ Kulliyat-e-Asad کی یہ غزل اپنے اسلوب میں سادہ مگر اثر میں بے حد گہری ہے، جو قاری کو اپنی اصلاح اور معاشرے کے اجتماعی رویوں پر نظرِ ثانی کی دعوت دیتی ہے۔

از قلم: محمد اسدؔ علی

Poet | Developer | Kot Momin | Kulliyat-e-Asad

تبصرے