اس دل کو یاد تیری ستائے تو کیا کروں

غزلِ اسدؔ 

اس دل کو یاد تیری ستائے تو کیا کروں
اس دل سے یاد تیری نہ جائے تو کیا کروں
اونچا ہے در تمہارا یہ سمجھایا دل کو ہے
یہ دل سمجھ ہی مجھ سے نہ پائے تو کیا کروں
یہ لوگ پوچھتے ہیں کیوں آنسو بہاتے ہو
اب یاد اس کی مجھ کو ستائے تو کیا کروں
نکلوں تو میں بھی شوق سے اس کی گلی کی سمت
وہ در پہ مجھ کو گر نہ بلائے تو کیا کروں
رستہ تو جانتا ہوں میں اس کے مکان کا
تقدیر ہی نہ مجھ کو لے جائے تو کیا کروں
پردہ گرا بھی دوں میں اگر اپنی چشم پر
یہ دل کرے جو ہائے ہی ہائے تو کیا کروں
ممکن نہیں ہے ملنا اب اس سے مگر اسدؔ
خوابوں میں آ کے وہ جو رُلائے تو کیا کروں

عشقیہ و صوفیانہ تشریح

۱۔ تمہید: مجازی استعارہ اور حقیقتِ محمدی ﷺ
اردو شاعری کی یہ ایک قدیم اور نہایت خوبصورت روایت رہی ہے کہ شاعر بظاہر مجازی محبوب سے مخاطب ہوتا ہے، لیکن درحقیقت اس کا روئے سخن سرورِ کائنات، فخرِ موجودات **حضور نبیِ کریم ﷺ** کی ذاتِ اقدس کی طرف ہوتا ہے۔ شاعر محمد اسدؔ علی نے اس غزل میں اسی روایت کو زندہ کیا ہے۔ یہاں "یاد"، "در"، "گلی" اور "مکان" محض الفاظ نہیں بلکہ "یادِ مدینہ"، "درِ اقدس"، "کوچہء جاناں" اور "روضہء رسول ﷺ" کی علامات بن کر سامنے آئے ہیں۔ ردیف "تو کیا کروں" اس تڑپتی ہوئی روح کی پکار ہے جو مدینے کی حاضری کے لیے بے قرار ہے مگر اسباب کی کمی اور اپنی کم مائیگی کی وجہ سے رکاوٹ محسوس کرتی ہے۔

۲۔ مطلع: یادِ مصطفیٰ ﷺ کا غلبہ
مطلع میں شاعر ایک ایسی "یاد" کا تذکرہ کرتا ہے جو دل سے جدا نہیں ہوتی۔ صوفیا کہتے ہیں کہ جب کسی کے دل میں حضور ﷺ کی محبت جاگزیں ہو جائے، تو پھر وہ دنیاوی یادوں سے بے گانہ ہو جاتا ہے۔ اسدؔ علی یہاں اسی کیفیتِ جذب کو بیان کر رہے ہیں کہ اے آقا ﷺ! آپ ﷺ کی یاد اب میرے وجود کا حصہ بن چکی ہے۔ اگر میں دنیاوی کاموں میں مصروف ہونا بھی چاہوں تو آپ ﷺ کا خیال مجھے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ یہ وہ ستانا ہے جو عاشق کے لیے لذت بن جاتا ہے، مگر ہجر کی آگ اسے "تو کیا کروں" کہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

۳۔ رفعتِ مقام اور دل کی نادانی
"اونچا ہے در تمہارا" اس شعر میں حضور ﷺ کے بلند ترین رتبے اور شاعر کی عاجزی کا ذکر ہے۔ ایک طرف وہ مقامِ مصطفیٰ ﷺ ہے جہاں فرشتے بھی پر مارتے ہوئے جھجکتے ہیں، اور دوسری طرف ایک گناہگار امتی کا دل ہے جو چاہتا ہے کہ ابھی اڑ کر وہاں پہنچ جائے۔ عقل کہتی ہے کہ تمہاری اوقات کیا جو اس عالی جاہ در پر جاؤ، مگر عشق کہتا ہے کہ وہاں صرف رتبہ نہیں دیکھا جاتا بلکہ تڑپ دیکھی جاتی ہے۔ شاعر اس کشمکش میں گھرا ہوا ہے کہ دل کو حقیقتِ حال کیسے سمجھائے۔

۴۔ دنیا کی تنقید اور سوزِ دروں
تیسرے شعر میں دنیا داروں کا ذکر ہے جو عشق کی کیفیات سے ناواقف ہیں۔ وہ آنسوؤں کی وجہ پوچھتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ عشقِ رسول ﷺ میں بہنے والا ایک آنسو بھی کائنات کی تمام نعمتوں سے بھاری ہے۔ یہاں "اب یاد اس کی مجھ کو ستائے" کا مطلب یہ ہے کہ جب طیبہ کی یاد آتی ہے تو تمام بندھن ٹوٹ جاتے ہیں اور ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ یہ آنسو کسی مادی نقصان پر نہیں، بلکہ فرقتِ مدینہ کا نوحہ ہیں۔

۵۔ طلبِ باریابی اور تقدیر کی زنجیریں
چوتھے اور پانچویں شعر میں غزل اپنے عروج پر ہے۔ شاعر مدینے جانے کے شوق سے لبریز ہے، اسے سمت کا بھی پتہ ہے اور منزل (مکان) کا بھی، مگر وہ ایک اہم نکتہ اٹھاتا ہے کہ مدینہ کوئی اپنی مرضی سے نہیں جاتا، وہاں صرف وہ جاتا ہے جسے بلایا جائے۔ "وہ در پہ مجھ کو گر نہ بلائے" میں وہ ڈر چھپا ہے کہ کہیں میرے گناہوں کی وجہ سے میں محروم نہ رہ جاؤں۔ پھر تقدیر کا شکوہ دراصل اس بے بسی کا اظہار ہے کہ جب تک سبز گنبد کا سایہ نصیب نہ ہو، علم اور رستہ جاننا سب ہیچ ہے۔ یہاں "تقدیر" سے مراد "قسمت کی یاوری" ہے جو عاشق کو درِ یار تک پہنچاتی ہے۔

۶۔ باطنی پکار اور چشمِ بینا
چھٹے شعر میں شاعر اپنی کیفیات کو چھپانے کی کوشش کا ذکر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے اپنی آنکھیں تو بند کر لی ہیں (تاکہ دنیا کی رنگینیاں نہ دیکھوں اور یادِ یار میں محو رہوں) مگر اس دل کا کیا کروں جو "ہائے مدینہ" اور "ہائے طیبہ" کی صدا دے رہا ہے؟ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان کا ظاہر ساکت ہوتا ہے مگر باطن میں درود و سلام اور تڑپ کا ایک سمندر موجزن ہوتا ہے۔

۷۔ مقطع: خوابوں کی حاضری اور وصال کی آرزو
مقطع میں اسدؔ علی نے اپنی انتہا بیان کر دی ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ ظاہری طور پر، مادی اسباب کے تحت شاید ملنا یا حاضری ابھی ممکن نہ ہو، لیکن روح کی تڑپ کا یہ عالم ہے کہ خوابوں میں وہی جلوے نظر آتے ہیں۔ خواب میں محبوبِ خدا ﷺ کا آنا اور شاعر کا رونا، دراصل اس عشق کی سچائی کی دلیل ہے۔ خواب میں رونا اس بات کی علامت ہے کہ شاعر خواب میں بھی ہجر کی تڑپ محسوس کر رہا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں Kulliyat-e-Asad کا شاعر خود کو حضور ﷺ کے در کا فقیر ثابت کرتا ہے جو جاگتے میں بھی اور سوتے میں بھی صرف اسی ایک ہستی کے خیال میں مگن ہے۔

حاصلِ کلام: محمد اسدؔ علی کی یہ غزل محض شاعری نہیں بلکہ ایک تڑپتے ہوئے دل کی عرضداشت ہے۔ "تو کیا کروں" کی ردیف میں چھپی ہوئی بے چارگی اسے ایک لافانی نعت بنا دیتی ہے جو ہر اس عاشقِ رسول ﷺ کی آواز ہے جو مدینے کی گلیوں کا پیاسا ہے۔

از قلم: محمد اسدؔ علی

Poet | Developer | Kot Momin | Kulliyat-e-Asad

تبصرے