تو کہاں ہے؟

نظم: تو کہاں ہے؟

اے مِرے مالک بتادے، تُو مکاں پر ہے کہاں؟
تُو زمین و فرش پر ہے یا زماں پر ہے کہاں؟
چرخِ نیلی پر بچھے ہیں یہ ستاروں کے نقوش
تُو چھپا بادل میں ہے یا کہکشاں پر ہے کہاں؟
بستیاں ویران ہیں اور لٹ رہے ہیں قافلے
تیرا وہ انصاف اب اس دورِ جاں پر ہے کہاں؟
ظلم کی اس دھوپ میں جب جل رہے ہیں بے گناہ
تیرا وہ سایہ خدایا! سر و جاں پر ہے کہاں؟
رگِ جاں سے بھی زیادہ تُو قریب و پاس ہے
پھر یہ دوری کا گماں اس جسم و جاں پر ہے کہاں؟
میں نے ڈھونڈا تجھ کو دیر و کعبہ و بت خانے میں
پر تیرا نقشِ قدم اس آستاں پر ہے کہاں؟
خامشی تیری ہے شکوہ، بے بسی میری تڑپ
تُو اگر ہے راز تو پھر تُو عیاں پر ہے کہاں؟
بے نشاں ہو کر بھی تیرا ہر طرف چرچا ہے خُوب
تُو بتا اے لا مکاں، تُو اس نشاں پر ہے کہاں؟
تُو ہی مالک، تُو ہی خالق، تُو ہی حاکم ہے اسدؔ
پر یہ بندہ پوچھے ہے، تُو اس جہاں پر ہے کہاں؟

نظم "تو کہاں ہے؟" کی تفصیلی و مفصل ادبی تشریح

دیباچہ و پس منظر: محمد اسدؔ علی کی یہ نظم "کلیاتِ اسدؔ" کے فکری و فلسفیانہ گوشوں میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔ یہ نظم محض ایک سوالیہ بیانیہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی روح کی اس ازلی تڑپ کی عکاسی کرتی ہے جو خالقِ کائنات کی جستجو میں صدیوں سے سرگرداں ہے۔ اردو شاعری میں "تلاشِ خدا" ایک قدیم موضوع رہا ہے، مگر اسدؔ نے اسے عصری مسائل، انسانی دکھوں اور منطقی ابہام کے ساتھ جوڑ کر ایک نیا رنگ عطا کیا ہے۔ یہ نظم فلسفہء وحدت الوجود اور انسانی وجودیت (Existentialism) کے سنگم پر کھڑی نظر آتی ہے۔

تلاش کا آغاز اور کائناتی وسعتیں: نظم کے ابتدائی اشعار میں شاعر کائنات کی وسعتوں کو مخاطب کرتا ہے۔ وہ "مکاں" اور "لا مکاں" کے درمیان الجھا ہوا ہے کہ وہ عظیم ہستی جس نے ستاروں کے نقوش "چرخِ نیلی" یعنی نیلے آسمان پر بکھیرے ہیں، وہ خود کہاں روپوش ہے؟ یہاں شاعر کی حیرت اس کی علمی پختگی کا ثبوت ہے۔ کہکشاؤں اور بادلوں کی اوٹ میں خدا کو ڈھونڈنا دراصل فطرت کے مظاہر میں خالق کے جمال کی تلاش ہے۔ اسدؔ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر کائنات اتنی منظم ہے تو اس کا ناظم نظر کیوں نہیں آتا؟

سماجی کرب اور عدلِ الٰہی کا سوال: نظم کا درمیانی حصہ نہایت دردناک اور حقیقت پسندانہ ہے۔ یہاں شاعر صوفیانہ خیالات سے نکل کر زمین کی تلخ حقیقتوں پر نظر ڈالتا ہے۔ "بستیاں ویران ہیں اور لٹ رہے ہیں قافلے"۔ یہ مصرع دورِ حاضر کے انتشار، جنگ و جدل اور انسانیت کی تذلیل کا نوحہ ہے۔ جب بے گناہ ظلم کی دھوپ میں جھلس رہے ہوتے ہیں، تو انسانی شعور میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ "تیرا سایہ کہاں ہے؟"۔ یہاں شاعر خدا کا منکر نہیں ہو رہا، بلکہ وہ مظلوم کی طرف سے ایک التجا پیش کر رہا ہے کہ تیرا عدل جو کائنات کی بنیاد ہے، وہ اس دنیا کے معاملات میں عملی طور پر کیوں ظاہر نہیں ہوتا؟ یہ وہی شکوہ ہے جو علامہ اقبال نے اپنے لازوال کلام میں کیا تھا۔

قربت اور دوری کا تضاد: ایک طرف تو یہ عقیدہ ہے کہ خدا "رگِ جاں" سے قریب ہے، دوسری طرف یہ دوری کا گماں کیوں ہے؟ اسدؔ نے انسانی نفسیات کے اس تضاد کو بڑے سلیقے سے نظم کیا ہے۔ اگر وہ ساتھ ہے، تو انسان تنہا کیوں محسوس کرتا ہے؟ یہ نکتہ تصوف کی گہرائیوں میں لے جاتا ہے جہاں "حجاب" کا تصور ملتا ہے۔ شاعر کے نزدیک یہ دوری دراصل ہمارے اپنے ادراک کی کمی ہے، یا شاید وہ "راز" ہے جسے عیاں ہونے کے لیے کسی خاص لمحے کی ضرورت ہے۔

مذہبی روایات اور حقیقت کی تلاش: "میں نے ڈھونڈا تجھ کو دیر و کعبہ و بت خانے میں"۔ یہ مصرع اس کلاسیکی فکر کی یاد دلاتا ہے کہ خدا پتھر کی عمارتوں میں نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے دلوں میں ملتا ہے۔ اسدؔ بتاتے ہیں کہ رسمی عبادات اور ظاہری مقامات پر تلاش کے باوجود اگر نقشِ قدم نہیں ملتا، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے تلاش کا راستہ غلط چنا ہے۔ خدا کسی خاص "آستاں" کا پابند نہیں، وہ تو وسعتوں کا مالک ہے۔

بے نشاں کا نشان: مقطع سے پہلے کا شعر ایک خوبصورت منطقی پیراڈوکس (Paradox) ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ تو "بے نشاں" ہے یعنی تیرا کوئی مادی جسم یا ٹھکانہ نہیں، لیکن تیرا "چرچا" ہر سو ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ تیری گواہی دے رہا ہے۔ یہ تضاد کہ وہ نظر نہیں آتا مگر محسوس ہوتا ہے، نظم کا سب سے خوبصورت فکری موڑ ہے۔

حاصلِ کلام (مقطع): نظم کا اختتام اسدؔ نے اپنی عاجزی اور بندگی کے اقرار پر کیا ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ وہی مالک، خالق اور حاکم ہے، لیکن "بندہ" ہونے کے ناطے سوال پوچھنا اس کی جبلت میں شامل ہے۔ یہ نظم شک کی نہیں بلکہ یقین کی تلاش کی نظم ہے۔ اس میں ایک بے چین روح کا اضطراب ہے جو اپنے رب سے کلام کرنا چاہتی ہے۔ محمد اسدؔ علی نے سادہ الفاظ میں زندگی کے مشکل ترین فلسفے کو سمو دیا ہے، جو کلیاتِ اسدؔ کو جدید اردو ادب میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔

فنی جائزہ: نظم کی بحر میں ایک خاص قسم کا ترنم ہے جو قاری کو غور و فکر کی طرف مائل کرتا ہے۔ الفاظ کا انتخاب جیسے "چرخِ نیلی"، "سفیرِ نفس"، اور "نقشِ قدم" شاعر کی زبان پر دسترس کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ کلام اصلاحی ہونے کے ساتھ ساتھ وجدانی بھی ہے، جو قاری کو اپنی ذات اور کائنات کے رشتے پر نظر ثانی کی دعوت دیتا ہے۔

از قلم: محمد اسدؔ علی

Kulliyat-e-Asad | Kot Momin

تبصرے