وہ ایک چہرہ کہ جس کا جواب کوئی نہیں

غزلِ اسدؔ


وہ ایک چہرہ کہ جس کا جواب کوئی نہیں
وہ ایک تارا کہ جس کا حساب کوئی نہیں
نہ جانے کیسی تھی خوشبو اس ایک رستے کی
وہاں پہ مٹی تھی لیکن گلاب کوئی نہیں
سجی تھی محفلِ ہستی تو سب ہی روشن تھے
مگر وہ شمس تھا جس کا حجاب کوئی نہیں
کسی نے زلف کی کالی گھٹا کا ذکر کیا
وہ ایک رات تھی جس کا مآب کوئی نہیں
قدم جو چومے تو رتبہ ہمیں بھی مل جائے
مگر وہ خاک ہے جس کا سراب کوئی نہیں
سنا جو لہجہ تو کانوں میں رس ہے گھلنے لگا
وہ ایک حرف تھا جس کا عذاب کوئی نہیں
اسی کی راہ میں گزری ہے زندگی اپنی
اسدؔ وہ در ہے کہ جس کا نقاب کوئی نہیں

عمیق ادبی و عرفانی تشریح: کلیاتِ اسدؔ (Kulliyat-e-Asad)

دیباچہ و مطلع کی وسعت: محمد اسدؔ علی کی یہ غزل محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ جمالیات اور روحانیت کا ایک بحرِ بے کراں ہے۔ مطلع میں شاعر "وہ ایک چہرہ" کہہ کر قاری کو ایک ایسی ابدی سچائی کی طرف متوجہ کرتے ہیں جس کی نظیر پوری کائنات میں نہیں ملتی۔ یہاں موازنہ (Comparison) کی نفی کی گئی ہے۔ "جواب کوئی نہیں" کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا ہر حسن اس ایک چہرے کے سامنے ماند ہے۔ دوسرے مصرعے میں "تارا" اور "حساب کوئی نہیں" کے الفاظ اس نورانی شخصیت کی بلندی اور وسعت کو بیان کرتے ہیں جو عقلِ انسانی کے پیمانوں سے ماورا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ادراک صرف دل کی آنکھ سے ممکن ہے، جہاں مادی پیمائشیں ختم ہو جاتی ہیں۔

خوشبوئے راہ اور خاکِ مدینہ: دوسرے شعر میں شاعر ایک استعاراتی سفر کا ذکر کرتے ہیں۔ ایک ایسا رستہ جہاں بظاہر تو مٹی بکھری ہوئی ہے لیکن اس کی خوشبو تمام دنیا کے گلابوں پر بھاری ہے۔ یہ اشارہ مدینہ منورہ کی اس مقدس مٹی کی طرف ہے جس کے ذرات میں معطر خوشبو رچی ہوئی ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ وہاں کسی ظاہری گلاب کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس رستے کی دھول ہی مشک و عنبر کا درجہ رکھتی ہے۔ یہاں مجاز کے پردے میں حقیقت کا حسن بے نقاب کیا گیا ہے، جہاں مٹی بذاتِ خود خوشبو کا سرچشمہ بن جاتی ہے اور باغوں کے گلاب اس کی گرد کو ترستے ہیں۔

محفلِ ہستی اور شمسِ بے حجاب: تیسرے شعر میں کائنات کو ایک "محفلِ ہستی" سے تشبیہ دی گئی ہے جہاں بہت سے ستارے اور چراغ روشن ہیں، لیکن ان سب کے درمیان وہ ایک ایسی ذات (شمس) ہے جس کی روشنی کسی پردے یا حجاب کی محتاج نہیں۔ یہ نورِ محمدی ﷺ کا وہ ظہور ہے جس نے کائنات کے ہر ذرے کو جلا بخشی۔ شاعر کے نزدیک باقی سب روشنیاں اس سورج کے سامنے عارضی اور مدھم ہیں۔ یہ روشنی کسی ظاہری پردے میں نہیں بلکہ یہ تو خود نورِ مجسم ہے جس نے ظلمتوں کو مٹا کر کائنات کو منور کر دیا۔

زلفِ یار اور شبِ ابدیت: چوتھے شعر میں زلف کا ذکر روایتی شاعری سے ہٹ کر ایک خاص مآب (ٹھکانہ) کی صورت میں کیا گیا ہے۔ کالی گھٹا سے تشبیہ دینا تو عام ہے، لیکن اسے ایک ایسی رات کہنا جس کا کوئی اختتام یا جس کا کوئی مآب نہیں، ایک انوکھا فلسفہ ہے۔ یہ وہ سیاہ رات ہے جس کی گہرائی میں عاشق گم ہو جانا چاہتا ہے، اور جہاں وقت ٹھہر سا جاتا ہے۔ یہ رات خوف کی نہیں بلکہ پناہ کی رات ہے، جہاں سکونِ قلب میسر آتا ہے اور جس کی وسعتوں کا کوئی کنارہ نہیں۔

خاکِ قدم اور رتبہِ بندگی: پانچویں شعر میں عجز و انکساری کی انتہا ملتی ہے۔ شاعر کا ارمان ہے کہ وہ اس مقدس خاک کو چوم لے جو اس عالی مرتبہ ہستی کے قدموں سے لگی ہے۔ یہاں "سراب" نہ ہونے کا ذکر یہ واضح کرتا ہے کہ یہ خاک کوئی دھوکہ یا وہم نہیں بلکہ وہ حقیقی وسیلہ ہے جو انسان کے رتبے کو خاک سے اٹھا کر عرش تک لے جاتا ہے۔ یہ بندگی کے اس مقام کی عکاسی ہے جہاں عاشق خود کو مٹانے میں ہی اپنی بقا سمجھتا ہے۔ یہ خاک ہی تو ہے جو بظاہر معمولی نظر آتی ہے مگر اس کا تعلق معجزہ نما ہے۔

لہجہِ شیریں اور حرفِ سکون: چھٹے شعر میں سماعت کی لذت کا ذکر ہے۔ ایسا لہجہ جو کانوں میں رس گھول دے اور ایسا حرف جو عذاب کے بجائے تسکین کا باعث بنے۔ یہ اس ہستی کی گفتگو اور پیغام کی طرف اشارہ ہے جو سراپا رحمت بن کر آئے۔ یہاں کلام اور لب و لہجے کے اس تقدس کو بیان کیا گیا ہے جو مردہ دلوں کو زندگی بخش دیتا ہے۔ جب وہ بولتے ہیں تو فضائیں معطر ہو جاتی ہیں اور کلمات سے شفقت ٹپکتی ہے، جو کسی بھی قسم کے دکھ یا عذاب کو مٹانے کے لیے کافی ہے۔

مقطع اور دائمی وابستگی: غزل کا اختتام اسدؔ کے اس عہد پر ہوتا ہے کہ ان کی پوری زندگی اسی ایک راہ کی نذر ہو گئی ہے۔ "در" (دروازہ) اور "نقاب کوئی نہیں" کا مطلب یہ ہے کہ وہ حقیقت اب شاعر پر مکمل طور پر واضح ہو چکی ہے۔ اس در پر پہنچ کر اب کسی پردے کی گنجائش نہیں رہی۔ یہ مکمل سپردگی اور عشق کی اس معراج کا بیان ہے جہاں عاشق اور معشوق کے درمیان کوئی حجاب باقی نہیں رہتا۔ شاعر کی زیست کا حاصل ہی اس چوکھٹ سے جڑے رہنا ہے جہاں سے ہدایت کا نور ہر لمحہ میسر رہتا ہے۔

فنی جائزہ: پوری غزل میں "کوئی نہیں" کی ردیف نے ایک پر اثر آہنگ پیدا کیا ہے جو قاری کے دل پر ایک خاص قسم کی ہیبت اور اثر طاری کرتا ہے۔ محمد اسدؔ علی نے استعارات اور تشبیہات کے ذریعے ایک ایسا منظوم خاکہ تیار کیا ہے جو اردو ادب میں ان کے منفرد انداز کا غماز ہے۔ بحر کی روانی اور الفاظ کی بندش نے اس کلام کو ایک خاص معنوی حسن عطا کیا ہے جو کہ کلیاتِ اسد کا خاصہ ہے۔

از قلم: محمد اسدؔ علی (اسدؔ کوٹ مومن)

Official Digital Diwan | Kulliyat-e-Asad

تبصرے