نظم : آؤ تُجھ کو ترا خدا میں دکھاؤں
نظم: آؤ تُجھ کو ترا خدا دکھاؤ
نظم "آؤ تُجھ کو ترا خدا میں دکھاؤں" کی بصیرت افروز تشریح
دیباچہ اور کلام کا جوہر: محمد اسدؔ علی کی یہ نظم "کلیاتِ اسدؔ" کے فکری ستونوں میں سے ایک ہے۔ یہ نظم محض شاعری نہیں بلکہ "وحدت الشہود" اور "معرفتِ ذات" کا ایک مکمل نصاب ہے۔ اس نظم میں شاعر ایک ہادی اور رہبر کا روپ دھار کر قاری کو مادی دنیا کے جھمیلوں سے نکال کر حقیقتِ اصلیہ کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کلام کا بنیادی مقصد انسان کو اس کے خالق سے اس طرح متعارف کروانا ہے کہ درمیان سے دوری کے تمام پردے چاک ہو جائیں۔
دعوتِ دیدار اور ہادی کا منصب: نظم کا آغاز ایک بہت بڑے دعوے اور دعوت سے ہوتا ہے۔ "آؤ تُجھ کو ترا خدا میں دکھاؤں"۔ یہاں شاعر ایک ایسے مشاہدے کی طرف بلا رہا ہے جو ظاہری آنکھ سے ممکن نہیں۔ یہ دعوت اس یقین پر مبنی ہے کہ خدا کہیں دور نہیں بلکہ انسان کے ادراک کے اندر موجود ہے۔ اسدؔ صاحب یہاں اس "رب" سے ملانے کی بات کر رہے ہیں جو شاہ رگ سے بھی قریب ہے۔ یہ مطلع قاری کے اندر ایک تجسس اور روحانی پیاس پیدا کرتا ہے جو پوری نظم کے مطالعے کے دوران اسے وجد کی کیفیت میں رکھتی ہے۔
کوہِ طور اور جدید مشاہدہ: دوسرے اور تیسرے اشعار میں شاعر نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور کوہِ طور کے واقعے کو بطور تلمیح استعمال کیا ہے۔ قدیم واقعے میں طور کی تجلی نے پہاڑ کو جلا کر سرمہ کر دیا تھا، مگر اسدؔ کہتے ہیں کہ آج کا مشاہدہ مختلف ہوگا۔ اب طور کی خاک سرمہ نہیں بنے گی، بلکہ انسانی شعور اس تجلی کو جذب کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ "عینِ فطرت کی تجلی" سے مراد کائنات کے ذرے ذرے میں خدا کے نور کا ظہور ہے۔ شاعر کا اشارہ اس طرف ہے کہ اگر بصیرت موجود ہو تو کائنات کا ہر گوشہ کوہِ طور بن جاتا ہے جہاں حسنِ بے پردہ یعنی خدا کا نور ہر جگہ جلوہ گر نظر آتا ہے۔
ظرفِ مے نوشی اور استقامت: چوتھے شعر میں ایک بہت گہرا نکتہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰؑ تجلی دیکھ کر غش کھا گئے تھے، لیکن اسدؔ قاری کو نوید دیتے ہیں کہ "تم نہ غش کھا کے اب گرو گے کہیں"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب انسان کو وہ "ظرف" اور وہ روحانی قوت عطا کی جائے گی جو حسنِ الٰہی کے مشاہدے کو برداشت کر سکے۔ یہاں "ظرفِ مے نوشی" سے مراد محبتِ الٰہی کی وہ شراب ہے جو انسان کو مدہوش نہیں بلکہ بیدار کرتی ہے۔ جب انسان کا باطن پاک ہو جاتا ہے، تو وہ خدا کی تجلیات کا بوجھ سہارنے کے قابل ہو جاتا ہے اور اس کے حواس معطل ہونے کے بجائے مزید تیز ہو جاتے ہیں۔
لن ترانی سے روبرو تک: پانچویں شعر میں قرآنِ پاک کی مشہور صدا "لَنْ تَرَانِی" (تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے) کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ صدا اس وقت گونجی تھی جب حضرت موسیٰؑ نے دیدار کی خواہش کی تھی۔ مگر اسدؔ صاحب اس دورِ معرفت کی بات کر رہے ہیں جہاں بندہ اور رب کے درمیان حجابات ختم ہو جاتے ہیں۔ "رُو بَرُو آج کبریا ہوگا" سے مراد وہ مقامِ احسان ہے جہاں بندہ خدا کی عبادت ایسے کرتا ہے جیسے وہ اسے دیکھ رہا ہو۔ یہ بندگی کی وہ انتہا ہے جہاں ایمان "مشاہدے" میں بدل جاتا ہے اور غیب، عیاں ہو جاتا ہے۔
حجابِ بصر اور حق کا آئینہ: چھٹے شعر میں "حجابِ بصر" یعنی ظاہری آنکھ کے پردوں کا ذکر ہے۔ ہماری یہ مادی آنکھ صرف مادی چیزیں دیکھ سکتی ہے۔ اسدؔ کہتے ہیں کہ جب یہ پردے اٹھیں گے، تو سامنے "حق کا آئینہ" ہوگا۔ آئینہ وہ ہوتا ہے جس میں انسان کو اپنی اصل نظر آئے۔ صوفیہ کے نزدیک انسان خود خدا کی صفات کا آئینہ ہے۔ جب بندہ اپنے نفس کو پاک کر لیتا ہے، تو اسے کائنات کے ہر آئینے میں حق کا جلوہ نظر آنے لگتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کثرت میں وحدت کا ادراک ہوتا ہے۔
مقطع اور خود شناسی کا درس: نظم کا اختتام اس سب سے بڑے راز پر ہوتا ہے جس کی طرف تمام انبیاء اور اولیاء نے اشارہ کیا۔ "چشمِ باطن سے دیکھنا تم اسدؔ، تیری ہستی میں وہ چھپا ہوگا"۔ یہ "من عرف نفسہ فقد عرف ربہ" (جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا) کی شاعرانہ تشریح ہے۔ اسدؔ صاحب واضح کرتے ہیں کہ خدا کو عرش و فرش پر ڈھونڈنے والے ناکام رہتے ہیں، کیونکہ وہ تو انسان کے اپنے وجود کے اندر جلوہ فرما ہے۔ جب انسان اپنی انا کو ختم کر کے چشمِ باطن وا کرتا ہے، تو اسے پتہ چلتا ہے کہ جس کی تلاش میں وہ سرگرداں تھا، وہ تو اس کے اپنے دل کے نہاں خانے میں مقیم ہے۔
فنی و فکری تجزیہ: اس نظم میں اسدؔ کا اسلوبِ بیان انتہائی فلسفیانہ اور جرات مندانہ ہے۔ الفاظ کی بندش اور تراکیب جیسے "حجابِ بصر"، "ظرفِ مے نوشی" اور "عینِ فطرت" ان کے مطالعے کی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں۔ بحر کی روانی اور قوافی کا انتخاب قاری کو ایک خاص روحانی وجد میں مبتلا کر دیتا ہے۔ محمد اسدؔ علی نے اس نظم کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ شاعری جب تصوف کے رنگ میں ڈھلتی ہے تو وہ دلوں کے لیے شفا بن جاتی ہے۔
خلاصہ کلام: اسدؔ کی زیادہ تر شاعری "حقیقی" اور صوفیانہ رنگ میں ہے۔ ان کا کلام انسان کو مادی پستیوں سے اٹھا کر روحانی بلندیوں پر لے جاتا ہے۔ اسدؔ کے نزدیک محبوبِ حقیقی صرف اللہ کی ذات ہے اور اس تک پہنچنے کا راستہ خود اپنے باطن کی سیر کرنا ہے۔ یہ نظم ہر اس سالک کے لیے مشعلِ راہ ہے جو معرفتِ الٰہی کی منزل پانا چاہتا ہے۔ کلیاتِ اسدؔ کا یہ شاہکار اردو ادب کی صوفیانہ روایت میں ایک گراں قدر اضافہ ہے جو صدیوں تک دلوں کو منور کرتا رہے گا۔
کلیاتِ اسدؔ: منتخب کلام (حمد، نعت، نظم، غزل)
از قلم: محمد اسدؔ علی
Kulliyat-e-Asad | Kot Momin
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں