علم و عمل

نظم: علم و عمل

حاصل ہوا جو علم تو ماہر بنے ہیں ہم
لیکن عمل بغیر تو جاہل بنے ہیں ہم
پڑھتی رہی زبان فقط آیتِ کتاب
دل سے مگر نہ دور ہوا ذہن کا سراب
دنیا کو دے رہے ہیں نصیحت کی روشنی
اپنے ہی گھر میں پالی ہے ہم نے یہ تیرگی
سجدہ بھی ہے نماز بھی، باتیں بھی دین کی
غفلت مگر ہے زیست میں اب بھی یقین کی
کاغذ کے ڈھیر پر جو بنایا ہے اک محل
دریا میں بہہ نہ جائے کہیں بے عمل کا پل
علمِ حقیقی وہ ہے جو کردار میں ڈھلے
ورنہ یہ علم صرف ہے راہوں کے فاصلے
دعویٰ تو ہے کہ شہر میں سب سے ہیں باخبر
اپنے سفیرِ نفس سے لیکن ہیں بے خبر

نظم "علم و عمل" کی بصیرت افروز ادبی تشریح

دیباچہ و مرکزی نقطہ: محمد اسدؔ علی کی یہ نظم ان کے شعری مجموعے "کلیاتِ اسدؔ" کا ایک نہایت اہم حصہ ہے، جو محض شاعری نہیں بلکہ ایک سماجی اور مذہبی بیانیہ ہے۔ اس نظم کا مرکزی خیال اس تضاد کی عکاسی کرتا ہے جو دورِ حاضر کے انسان کی علمی اور عملی زندگی کے درمیان حائل ہو چکا ہے۔ شاعر کے نزدیک علم معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ کردار کی تبدیلی کا نام ہے۔

فکری گہرائی اور نفسیاتی تجزیہ: نظم کا آغاز ایک کڑوی سچائی سے ہوتا ہے کہ عصرِ حاضر کا انسان ڈگریاں اور اسناد لے کر "ماہر" تو کہلاتا ہے، لیکن اگر اس کے عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو وہ درحقیقت "جاہلِ مطلق" ہے۔ زبان سے "آیتِ کتاب" کا ورد کرنا اور دل میں "ذہن کا سراب" (وہم و گماں) پالنا اس منافقت کی طرف اشارہ ہے جو ہمارے روحانی نظام کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔ شاعر نے "نصیحت کی روشنی" اور "اپنے گھر کی تیرگی" (اندھیرا) کے ذریعے اس عمومی رویے کو بے نقاب کیا ہے جہاں ہم دوسروں کی اصلاح کے علمبردار تو بنتے ہیں مگر اپنی ذات کے اندھیروں سے غافل رہتے ہیں۔

استعاراتی نظام اور تنبیہ: اسدؔؔ صاحب نے "کاغذ کے ڈھیر پر بنے محل" کا نہایت بلیغ استعارہ استعمال کیا ہے۔ وہ علم جو عمل کی بنیاد سے محروم ہو، اس کی حیثیت اس ریت کے گھروندے جیسی ہے جو وقت کے معمولی سے دریا برد ہو سکتا ہے۔ "بے عمل کا پل" وہ کمزور سہارا ہے جس پر چل کر انسان کبھی منزلِ مقصود یعنی اللہ کی رضا حاصل نہیں کر سکتا۔ علمِ حقیقی کے بارے میں شاعر کا نظریہ واضح ہے: وہی علم معتبر ہے جو انسان کے کردار، اخلاق اور معاملات میں ڈھل کر نظر آئے۔ اگر ایسا نہیں، تو یہ علم محض وقت اور راستوں کا فاصلہ ہے جو انسان کو اللہ سے دور اور نفس کے قریب کر دیتا ہے۔

حاصلِ کلام و آخری پیغام: مقطع میں شاعر نے خود شناسی کا درس دیتے ہوئے "سفیرِ نفس" کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ ہم پوری دنیا اور شہر کی خبروں سے تو باخبر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اپنے اندر چھپے ہوئے نفس (Ego) کے عزائم اور اس کی چالوں سے یکسر بے خبر ہیں۔ یہ نظم ایک تازیانہ ہے جو قاری کو اپنی عملی حالت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

فنی محاسن: اس نظم میں سادہ مگر پر اثر الفاظ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ بحر کی روانی اور قوافی کی ترتیب نے کلام میں ایک ایسا نغمگی پیدا کی ہے جو قاری کے دل پر اثر کرتی ہے۔ محمد اسدؔ علی نے ثابت کیا ہے کہ شاعری جب مقصدیت سے جڑتی ہے تو وہ اصلاحِ معاشرہ کا بہترین ذریعہ بن جاتی ہے۔

از قلم: محمد اسدؔ علی

Kulliyat-e-Asad | Kot Momin

تبصرے