ایک سپاہی کی صدا

نظم: ایک سپاہی کی صدا

(منظوم خراجِ عقیدت بنام سپاہی حنظلہ شہید)

وطن کی مٹی مجھے پکارے، میں جا رہا ہوں پکار سن کر
اگر میں لوٹوں تو غازی لوٹوں، نہ لوٹوں تو میں شہیدِ ملت
لبوں پہ اپنے میں لا الہٰ کا، وقار دے کر ہوں چل پڑا اب
خدا کے رستے کا ہوں مسافر، بنے گی جاں اب نویدِ ملت
وہ جس نے سرحد پہ جان دے کر، وفا کی ایسی مثل لکھی ہے
سلام تم پر اے شیرِ دوراں، اے حنظلہ تو شہیدِ ملت
عدو کی صف کو جو چیر ڈالے، وہ بن گیا ہے اب ایسی طاقت
وہ فخرِ دوراں بنا ہے اب تو، وہ بن گیا ہے امیدِ ملت
لهو سے اپنے جو سینچ ڈالا، وطن کا گوشہ ہر ایک اس نے
رہے گی زندہ ہمیشہ جگ میں، وہ اس کی جرأت، فریدِ ملت
میں دشمنوں سے نہ ڈر سکوں گا، میں سر کٹا کر بھی جیت جاؤں
مری شہادت پہ رشک ہوگا، میں بن کے ابھرا پدیدِ ملت
دعا ہے میری، رہے سلامت، یہ سبز پرچم، یہ پاک دھرتی
چمکتا تارا رہے گا بن کر وہ حنظلہ اب شہیدِ ملت

جامع، عمیق اور مفصل فکری تشریح

۱۔ تمہیدِ عشق و مستی:
محمد اسدؔ علی کی یہ نظم "ایک سپاہی کی صدا" اردو ادب کے اس رزمہ (Epic) ورثے کا تسلسل ہے جہاں قلم کی روشنائی اور شہید کا لہو ایک ہی مقصدِ عظیم کے لیے وقف ہو جاتے ہیں۔ یہ کلام محض ایک سپاہی کے جذبات نہیں، بلکہ ہر اس روح کی پکار ہے جو ارضِ پاک کی مٹی کو اپنی ماں سمجھتی ہے۔ اسدؔ علی نے اس نظم کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ شاعری جب مقصدیت کے سانچے میں ڈھلتی ہے تو وہ صورِ اسرافیل بن کر قوموں کو خوابِ غفلت سے بیدار کر دیتی ہے۔ کوٹ مومن کی زرخیز مٹی سے اٹھنے والی یہ آواز آج سرحدوں کی محافظ بن کر گونج رہی ہے۔

۲۔ حنظلہ شہید: شجاعت کا نیا استعارہ:
اس نظم کا مرکزی کردار سپاہی حنظلہ شہید ہے، جس نے پاک افغان سرحد پر اپنی جوانی کی قربانی دے کر یہ پیغام دیا کہ وطن کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ حنظلہ کا ذکر کرتے ہوئے شاعر نے "شیرِ دوراں" کی ترکیب استعمال کی ہے، جو کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بہادری کی یاد دلاتی ہے۔ 2026 کے حالیہ واقعات اور سرحدوں پر جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ نظم ایک تاریخی ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ حنظلہ شہید نے جس طرح دشمن کی عددی برتری کو ٹھکرا کر اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی، وہ اسدؔ علی کے کلام میں ابدی ہو گیا ہے۔

۳۔ بند وار مفصل تجزیہ:
نظم کا پہلا بند "وطن کی مٹی" اور "پکار" کے گرد گھومتا ہے۔ یہاں "پکار" محض ایک آواز نہیں بلکہ ایک روحانی بلاوا ہے جسے صوفیا "ندائے غیبی" کہتے ہیں۔ جب مٹی پکارتی ہے تو پھر غازی اور شہید کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ باقی نہیں رہتا۔
دوسرے بند میں "لا الہٰ کا وقار" اور "نویدِ ملت" کا ذکر کر کے اسدؔ صاحب نے دفاعِ وطن کو ایک خالص ایمانی فریضہ بنا دیا ہے۔ ایک سپاہی جب سرحد پر کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پیچھے صرف ایک فوج نہیں، بلکہ صدیوں کی اسلامی تاریخ اور کلمہِ حق کی طاقت ہوتی ہے۔ "نویدِ ملت" سے مراد وہ خوشخبری ہے جو ایک شہید اپنے لہو سے قوم کی تقدیر میں لکھتا ہے۔

۴۔ فکری گہرائی (فنا اور بقا):
مقطع سے قبل کا بند "سر کٹا کر جیت جانا" تصوف کے عین مطابق ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں موت شکست نہیں بلکہ فتح بن جاتی ہے۔ شاعر نے "پدیدِ ملت" کی اصطلاح استعمال کر کے یہ نکتہ واضح کیا ہے کہ شہید مٹی میں مل کر ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ ملت کے افق پر ایک "پدید" (ظاہر و روشن) حقیقت بن کر ابھرتا ہے۔ یہ فلسفہ علامہ اقبال کے مردِ مومن کے تصور سے ہم آہنگ ہے جو موت کے خوف سے آزاد ہو کر ابدیت پاتا ہے۔

۵۔ فنی محاسن اور لسانی پختگی:
لسانی لحاظ سے اسدؔ علی نے **بحرِ تجنیس** کے زیرِ اثر قافیوں کا ایک ایسا حسین جال بنا ہے جو سماعتوں میں رس گھولتا ہے۔ "نوید، امید، فرید، پدید" جیسے الفاظ کا انتخاب شاعر کی لغوی دسترس اور علمی گہرائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ "فریدِ ملت" کا استعمال یہاں یگانگت اور بے مثالی کے معنوں میں ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ حنظلہ جیسے سپوت صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔

۶۔ حاصلِ مطالعہ و پیغام:
یہ نظم ایک دعا پر ختم ہوتی ہے جو "سبز پرچم" اور "پاک دھرتی" کی سلامتی کے لیے ہے۔ محمد اسدؔ علی نے اس کلام کے ذریعے کوٹ مومن کے ہر نوجوان کے دل میں حب الوطنی کی وہ جوت جگائی ہے جو کبھی ماند نہیں پڑے گی۔ یہ نظم "کلیاتِ اسدؔ" کا وہ درخشندہ باب ہے جو آنے والے وقتوں میں مورخین کے لیے ایک حوالہ بنے گا۔

از قلم: محمد اسدؔ علی (اسدؔ کوٹ مومن)

Official Digital Diwan | Kulliyat-e-Asad

تبصرے