عشقِ احمد ﷺ دلِ نکتہ داں چاہیے

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ

عشقِ احمد ﷺ دلِ نکتہ داں چاہیے
لب پہ ذکرِ شہِ دو جہاں چاہیے
زندگی کا سکوں، بندگی کا مزہ
نقشِ پائے شہِ مرسلاں چاہیے
نورِ حق سے منور ہو میرا دروں
مجھ کو وہ جلوہءِ جاوداں چاہیے
تاج و تختِ سکندر نہیں مانگتا
مجھ کو بس آپ کا آستاں چاہیے
جب پکاروں محمد ﷺ مصیبت کے وقت
تب کرم آپ کا مہرباں چاہیے
تیرہ و تار ہے یہ شبِ زندگی
آپ کی دید کی کہکشاں چاہیے
دل تڑپتا رہے یاد میں آپ کی
آنکھ کو اشکِ غم کا سماں چاہیے
طیبہ والے کی رحمتیں جو ملے
دھوپ میں اور کیا سائباں چاہیے
خلد کی خواہشوں کی ضرورت نہیں
مجھ کو تو کوچۂِ دلستاں چاہیے
پڑھ کے نعتیں تری جھومتا ہی رہوں
ایسا کیف و سرورِ بیاں چاہیے
ایک ہی آرزو ہے مرے دل میں اب
خواب میں سبز وہ سائباں چاہیے
وقتِ رخصت مرے لب پہ ہو نعتِ پاک ﷺ
مجھ کو ایسا ہی دارِ اماں چاہیے
رحمتوں کا طلب گار ہے اب اسدؔ
آپ کا سایہءِ بیکراں چاہیے

نعت "عشقِ احمد ﷺ" کی علمی، فنی و فکری تشریح

دیباچہ و مرکزی نقطہ: محمد اسدؔ علی کی یہ نعت ان کے شعری مجموعے "کلیاتِ اسدؔ" کا ایک نہایت ہی وجدانی اور صوفیانہ کلام ہے۔ اس نعت میں ردیف "چاہیے" کا استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شاعر کے نزدیک زندگی کا ہر مقصد اور ہر خواہش صرف ذاتِ مصطفیٰ ﷺ سے وابستہ ہے۔ یہ نعت محض شاعری نہیں بلکہ ایک دعا ہے جو ایک عاجز بندہ اپنے آقا ﷺ کے حضور پیش کر رہا ہے۔

تلمیحات کا بلیغ استعمال: شاعر نے "تاج و تختِ سکندر" کی تلمیح کے ذریعے دنیاوی جاہ و جلال کی بے ثباتی کو واضح کیا ہے۔ سکندرِ اعظم کا نام یہاں مادی عروج کی علامت ہے، لیکن اسدؔ صاحب ان تمام مادی فتوحات کے مقابلے میں حضور ﷺ کے آستانے کی گدائی کو اپنے لیے معراجِ انسانیت قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح "نقشِ پائے شہِ مرسلاں ﷺ" کو بندگی کا حقیقی مزہ قرار دینا اس صوفیانہ فکر کی ترجمانی ہے کہ سنتِ نبوی کی پیروی ہی اصل نجات ہے۔

استعاراتی نظام اور جمالیاتی حسن: اس نعت میں استعمال ہونے والے استعارے نہایت اچھوتے ہیں۔ "نکتہ داں دل" وہ دل ہے جو عشق کے آداب اور معرفت کی باریکیوں سے واقف ہو۔ "دید کی کہکشاں" کا استعارہ زندگی کی تاریکیوں میں نورِ محمدی ﷺ کی رہنمائی کو ظاہر کرتا ہے۔ "سبز سائباں" کا ذکر گنبدِ خضرا کی طرف وہ والہانہ اشارہ ہے جو ہر مومن کی قلبی راحت کا مرکز ہے۔ شاعر نے "تیرہ و تار شبِ زندگی" کہہ کر موجودہ دور کے فتنوں اور مصائب کو بیان کیا ہے جن کا واحد علاج آپ ﷺ کی رحمت کا سایہ ہے۔

عشقِ صادق اور تمنائے خلد: صوفیانہ روایات کی پیروی کرتے ہوئے شاعر نے "خلد" (جنت) کے مقابلے میں "کوچۂِ دلستاں" (مدینہ منورہ) کو فوقیت دی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ محب کے لیے محبوب کی گلی جنت کے باغات سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ "دارِ اماں" کی اصطلاح اس یقین کو پختہ کرتی ہے کہ نزع کا عالم ہو یا حشر کی ہولناکی، نعتِ پاک ﷺ ہی وہ واحد حصار ہے جو بندے کو امن فراہم کرے گا۔

حاصلِ کلام و مقطع: مقطع میں اسدؔؔ صاحب نے اپنے نام کے ساتھ "سایہءِ بیکراں" کی طلب کر کے اپنی عاجزی اور آپ ﷺ کی لامحدود رحمت پر کامل یقین کا اظہار کیا ہے۔ یہ کلام اپنے سوز و گداز اور فنی پختگی کی بنا پر اردو نعتیہ ادب کا ایک قیمتی اثاثہ ہے جو قاری کے دل میں تڑپ اور لبوں پر درود و سلام کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔

از قلم: محمد اسدؔ علی

Kulliyat-e-Asad | Kot Momin

تبصرے