دربدر بھٹکے ترے در کی ہے ہم جستجُو میں

حمدِ باری تعالیٰ 

دربدر بھٹکے ترے در کی ہے ہم جستجُو میں
مل گیا ہے ہمیں تو اس تُو تُو کے ہی تو میں
بند آنکھوں سے بھی دیکھا ہے تجھے اے مرے رب
نور تیرا ہی سمایا ہے مری آرزو میں
کون ہے تیرے سوا جو غمِ دل سے ہو خبر
صرف تو ہی تو بسا ہے ہی مری گفتگو میں
سبزہ و گل کی زباں پر ترا ہی ذِکر و ثنا
رنگ تیرا ہی جھلکتا ہے گل و خوشبو میں
تیری قدرت کے کرشمے ہیں عیاں ہر جگہ ہی
اک تلاطم سا بپا بحر کی ہاؤ ہو میں
لب پہ جاری ہے فقط ذِکرِ الٰہی اے اَسدؔ
بس سکوں ملتا ہے مجھ کو تری ذکر و خو میں

جامع روحانی، ادبی و فلسفیانہ تشریح

پیش لفظ: حمد کا پس منظر

زیرِ نظر صوفیانہ کلام (حمدِ باری تعالیٰ) شاعر محمد اسدؔ علی کے قلم سے نکلا ہوا ایک ایسا روحانی شاہکار ہے جو وحدت الوجود اور عشقِ الٰہی کے گہرے سمندر کی عکاسی کرتا ہے۔ اس حمد میں صرف اللہ کی تعریف نہیں کی گئی، بلکہ ایک سالک (راستے کا مسافر) کے اس سفر کو بیان کیا گیا ہے جو وہ اپنی ذات کی نفی سے لے کر رب کی پہچان تک طے کرتا ہے۔ صوفیانہ شاعری کی روایت میں "میں" اور "تُو" کا تضاد دراصل انسانی انا اور خدائی بقا کا تضاد ہے۔ شاعر نے اس کلام میں نہایت فنکاری کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ جب انسان اپنی "میں" کو مٹا دیتا ہے، تو اسے کائنات کے ہر ذرے میں صرف اللہ کا "نور" ہی نظر آتا ہے۔

۱۔ مطلع کی تشریح: فنا اور بقا کا فلسفہ

مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ ہم ایک طویل عرصے تک اللہ کو باہر کی دنیا میں تلاش کرتے رہے، خانقاہوں، گلیوں اور صحراؤں میں دربدر بھٹکتے رہے، لیکن وہ کہیں نہ ملا۔ مگر جب ہم نے "ذکرِ الٰہی" (تُو تُو) کی تسبیح پکڑی اور اپنی ہستی کو اس کی یاد میں گم کر دیا، تو پتا چلا کہ جسے ہم باہر ڈھونڈ رہے تھے وہ تو ہمارے اپنے اندر ہی موجود تھا۔ یہ مصرعہ صوفیانہ نعرے "حق ہُو" کی تفسیر ہے۔ جب انسان اپنی زبان اور دل سے مسلسل اللہ کو پکارتا ہے، تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ پکارنے والا خود پکار میں گم ہو جاتا ہے۔ صوفیاء کے نزدیک یہ "فنا فی اللہ" کا وہ مقام ہے جہاں بندے کی اپنی خواہش ختم ہو جاتی ہے اور صرف اللہ کا حکم باقی رہ جاتا ہے۔

۲۔ باطنی مشاہدہ: آنکھ اور دل کا رشتہ

دوسرے شعر میں ایک نہایت لطیف نکتہ بیان کیا گیا ہے: "بند آنکھوں سے دیکھنا"۔ ظاہری آنکھیں صرف مادی اشیاء کو دیکھ سکتی ہیں، جن کی ایک حد ہے۔ لیکن دل کی آنکھ (بصیرت) وہ دیکھتی ہے جو مادہ پرستوں کو نظر نہیں آتا۔ شاعر کا کہنا ہے کہ میں نے جب دنیاوی رنگینیوں سے آنکھیں بند کیں، تو میرے اندر کے اجالے نے مجھے اللہ کا جلوہ دکھا دیا۔ یہ آرزو کا نور دراصل وہ تڑپ ہے جو بندے کو اپنے خالق کے قریب لاتی ہے۔ جب تک انسان مادی دنیا کی چمک دمک میں الجھا رہتا ہے، وہ حقیقت سے دور رہتا ہے۔ جیسے ہی وہ اپنی باطنی آنکھ کھولتا ہے، اسے ذرے ذرے میں اللہ کی قدرت کا نور دکھائی دینے لگتا ہے۔

۳۔ غمِ دل اور تنہائی کا ساتھی

تیسرے شعر میں انسانی نفسیات اور رب کے تعلق کو بیان کیا گیا ہے۔ دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی غم میں مبتلا ہے، لیکن دنیا کے سہارے عارضی اور مطلب پرست ہوتے ہیں۔ شاعر سوال کرتا ہے کہ اے اللہ! تیرے سوا وہ کون ہے جو میرے دل کے پوشیدہ زخموں اور غموں سے واقف ہو؟ تو ہی وہ واحد ہستی ہے جو "علیم بالذات الصدور" (سینوں کے راز جاننے والی) ہے۔ جب انسان تنہائی میں اپنے رب سے کلام کرتا ہے، تو اس کی گفتگو میں کسی دوسرے کا تذکرہ نہیں ہوتا بلکہ صرف "تُو ہی تُو" ہوتا ہے۔ یہ مقامِ بندگی ہے جہاں بندہ اپنے تمام دکھ درد اپنے خالق کے سپرد کر کے پرسکون ہو جاتا ہے۔

۴۔ کائناتی تسبیح: فطرت کا مشاہدہ

چوتھے اور پانچویں شعر میں شاعر کی نظر کائنات کے وسیع و عریض کینوس پر پڑتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ باغوں کا سبزہ ہو یا پھولوں کی رنگت، ہر چیز زبانِ حال سے اللہ کی ثنا خوانی کر رہی ہے۔ صوفیانہ نقطہ نظر سے کائنات کی ہر شے ایک آئینہ ہے جس میں خالق کا جلوہ نظر آتا ہے۔ پھولوں کی خوشبو میں اللہ کی صفتِ جمال ہے، جبکہ سمندروں کے تلاطم اور موجوں کی "ہاؤ ہُو" میں اللہ کی صفتِ جلال جھلکتی ہے۔ سمندر کا جوش و خروش اور لہروں کا ساحل سے ٹکرانا دراصل اللہ کے ذکر کی ایک ایسی صدا ہے جو کائنات کے ہر حصے میں گونج رہی ہے۔ یہ تلاطم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی قدرت لامتناہی ہے اور پوری کائنات اس کے قبضے میں ہے۔

۵۔ مقطع: سکونِ قلب کا دائمی ذریعہ

مقطع میں شاعر اپنا تخلص اَسدؔ استعمال کرتے ہوئے حتمی فیصلہ سناتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تمام دنیاوی لذتوں اور تجربات کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ حقیقی سکون کسی مادی شے میں نہیں، بلکہ صرف ذکرِ الٰہی میں ہے۔ جب لبوں پر اللہ کا نام جاری ہوتا ہے اور دل اس کی صفات (خُو) میں ڈھلنے لگتا ہے، تو روح کو وہ اطمینان حاصل ہوتا ہے جسے "نفسِ مطمئنہ" کہا جاتا ہے۔ ذکر کی مٹھاس انسان کے اخلاق اور عادات (خُو) کو بھی بدل دیتی ہے، اور یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے انسان کی تخلیق ہوئی ہے۔

حاصلِ کلام: پیغامِ تصوف

مجموعی طور پر یہ حمد قاری کو ایک ایسے روحانی سفر پر لے جاتی ہے جہاںوہ خود کو اللہ کے سامنے عاجز محسوس کرتا ہے۔ اس کلام کا ایک ایک لفظ عشقِ الٰہی میں ڈوبا ہوا ہے-  یہ حمد ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کو پانے کے لیے کہیں جانے کی ضرورت نہیں، بس اپنے دل کو گناہوں کی سیاہی سے پاک کر کے اس کی یاد میں بسا لینے کی ضرورت ہے۔

از قلم: محمد اسدؔ علی

Kulliyat-e-Asad | Kot Momin Poetry

تبصرے