یہ تو نے پوچھا کیسا اک عجیب سا سوال ہے

غزلِ اسدؔ

یہ تو نے پوچھا کیسا اک عجیب سا سوال ہے
ایک مردے سے تو پوچھتا جو اس کا حال ہے
میں مانتا ہوں دنیا میں ابھی میں مُردہ تو نہیں
مگر ہوا ہوں مُردہ جب سے دیکھا وہ جمال ہے
نہ اب وہ دل میں حسرتیں، نہ وہ خوشی کی آرزو
بس ایک سوگواری اور غم کا ہی وبال ہے
ہوا ہے زخم زخم اب تو میرا پیکرِ حیات
یہ روح پاش پاش اور قلب بھی نڈھال ہے
ہمارے پاس آ کے تم بہار کا نہ پوچھنا
خزاں کے حبسِ مِہر میں جو جسم و جاں سفال ہے
اُجڑ گئی ہے بستیِ اُمید میرے سامنے
عروج تھا کبھی جہاں وہاں تو اب زوال ہے
میں اپنی ذات کے ہی کرچیوں میں قید ہو گیا
خودی کے آئینہ میں اب تو ہجر کا ملال ہے
تلاشِ زیست میں ہم اس مقام پر ٹھہر گئے
جہاں نہ کوئی راستہ، نہ ہجرتِ خیال ہے
کہ کہاں تلک جیے گے ہم یہ بوجھ عمر کا لیے
کہ اب تو سانس لینا بھی مِرے لیے محال ہے
ستارے سارے بجھ گئے، سحر کی اب خبر نہیں
نصیب کی سیاہیوں میں مٹ گیا جمال ہے
غموں نے چھین لی ہے اب اسدؔ لبوں سے ہر ہنسی
یہ عشق ہے یا زہر ہے جو موت کی مثال ہے

جامع ادبی و نفسیاتی تشریح (تفصیلی)

۱۔ وجودی کرب اور موت کا استعارہ: شاعر محمد اسدؔ علی نے اس غزل کے مطلع میں ہی زندگی اور موت کی درمیانی کیفیت کو موضوع بنایا ہے۔ ایک "مردے سے حال پوچھنا" دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ جسمانی طور پر زندہ ہونے کے باوجود شاعر جذباتی اور روحانی طور پر فنا ہو چکا ہے۔ محبوب کے "جمال" کو موت کا پیش خیمہ قرار دینا اس بات کی علامت ہے کہ وہ حسن جس نے جینے کی تحریک دی تھی، اب وہی ہستی کی نفی کا سبب بن گیا ہے۔

۲۔ حسرتوں کا وبال اور ذات کی شکستگی: غزل کے اشعار میں ایک مسلسل سوگواری کی فضا قائم ہے۔ شاعر کے نزدیک اب نہ تو کوئی آرزو باقی ہے اور نہ ہی خوشی کی تڑپ۔ "ذات کی کرچیوں میں قید ہونا" ایک نہایت بلیغ نکتہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ انسان جب اندرونی طور پر ٹوٹتا ہے تو وہ اپنی ہی بکھری ہوئی شخصیت کے حصار میں محبوس ہو جاتا ہے۔ خودی کے آئینے کا ہجر کے ملال سے دھندلا جانا نفسیاتی طور پر ذات کی گمشدگی کی عکاسی کرتا ہے۔

۳۔ ہجر کا حبس اور فنائے زیست: شاعر نے "خزاں کے حبسِ مِہر" اور "سفال" (مٹی کا ٹھیکرا) جیسے استعاروں سے اپنی بے وقعتی اور ہجر کی تپش کو بیان کیا ہے۔ "بستیِ امید کا اجڑنا" اور "عروج کا زوال میں بدلنا" کائناتی سچائیوں کو انسانی جذبوں پر منطبق کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ جب شاعر کہتا ہے کہ "سانس لینا بھی محال ہے"، تو وہ دراصل اس بوجھ کا ذکر کر رہا ہے جو یادِ محبوب اور مسلسل تنہائی نے اس کے سانسوں پر ڈال دیا ہے۔

۴۔ سحر کی گمشدگی اور نصیب کی سیاہی: ستاروں کا بجھ جانا اور سحر کی خبر نہ ہونا ناامیدی کی انتہا ہے۔ شاعر کے نزدیک اس کا مقدر اب ان سیاہیوں میں گم ہو چکا ہے جہاں جمال اور روشنی کی کوئی رمق باقی نہیں رہی۔ "ہجرتِ خیال" کا نہ ہونا اس ذہنی جمود کی طرف اشارہ ہے جو کسی بڑے صدمے کے بعد انسان پر طاری ہوتا ہے، جہاں نہ کوئی منزل نظر آتی ہے اور نہ ہی فرار کا راستہ۔

۵۔ عشق یا زہرِ ہلاہل (مقطع): مقطع میں شاعر اسدؔ علی ایک لرزہ خیز سوال پر کلام ختم کرتے ہیں۔ وہ حیران ہیں کہ جسے دنیا "عشق" کہتی ہے، کیا وہ دراصل کوئی میٹھا "زہر" ہے؟ لبوں سے ہنسی کا رخصت ہونا اور موت کی مثال بن جانا اس بات کی دلیل ہے کہ شاعر عشق کی اس منزل پر ہے جہاں فنا اور بقا کے درمیان فرق مٹ چکا ہے۔ یہ غزل Kulliyat-e-Asad کی فکری گہرائی اور اسدؔ علی کے سوزِ دروں کا ایک شاہکار نمونہ ہے۔

حاصلِ کلام: یہ غزل محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زخمی روح کی پکار ہے۔ محمد اسدؔ علی نے جس مہارت سے ہجر کی سوگواری کو ادبی لباس پہنایا ہے، وہ قاری کو ایک ایسی کیفیت میں لے جاتا ہے جہاں غمِ دوراں اور غمِ جاناں ایک ہو جاتے ہیں۔

از قلم: محمد اسدؔ علی

Poet | Developer | Kot Momin | Kulliyat-e-Asad

تبصرے