تیری یاد میں، روتے روتے، چین جو میرا اب کھو گیا

غزلِ اسدؔ


تیری یاد میں، روتے روتے، چین جو میرا اب کھو گیا
عمر گزاری، ہجر میں تیری، جو ہونا تھا اب ہو گیا
تیری گلی کے، پتھر اٹھا کر، مارا میں نے سر اپنے
درد کی مارے، آنکھ سے میری، خونِ تمنا بھی رو گیا
کون کہے اب، حالِ پریشاں، کون سنے اب میری پکار
بستیِ دل میں، تیرے غم کا، زہر کوئی اب بو گیا
عقل کے مارے، ہنستے رہے ہیں، دیکھ کے میرا حالِ زبوں
تیری تڑپ کی، وحشت میں اب، ہوش کا عالم ہے سو گیا
وردِ زباں ہے، ذکر تمہارا، ہر اک سانس کے دھاگے میں
جپتا نام، ترا یہ، میرا، آج سراپا، لہو گیا
جامِ لبالب، مے سے بھرا ہے، بہتا لہو اب مقتل میں
داغِ وفا کو، اشکِ جگر سے، ہاتھ سے اپنے ہے دھو گیا
دیکھا نہیں پر، سن کے تیرا، نام ہی رویا جو یہ اسدؔ
حسن کی تیرے، دھوم کا جادو، جی میرا اب موہ گیا

جامع، عمیق اور مفصل ادبی تشریح: کلیاتِ اسدؔ

پیش گفتار و فکری پس منظر:
محمد اسدؔ علی کی زیرِ نظر غزل "کلیاتِ اسدؔ" (Kulliyat-e-Asad) کا وہ حصہ ہے جو انسانی جذبات کی اس انتہا کو چھوتا ہے جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں اور صرف احساس باقی رہ جاتا ہے۔ کوٹ مومن کے اس نوجوان سخنور نے روایتی غزل کے پیرائے میں ہجر کی وہ داستان رقم کی ہے جو بیک وقت شخصی بھی ہے اور آفاقی بھی۔ یہ کلام خاص طور پر ان قارئین کے لیے لکھا گیا ہے جو شاعری میں محض قافیہ پیمائی نہیں بلکہ روح کی تڑپ تلاش کرتے ہیں۔

شعرِ اول (مطلع):
"تیری یاد میں، روتے روتے، چین جو میرا اب کھو گیا / عمر گزاری، ہجر میں تیری، جو ہونا تھا اب ہو گیا"
مطلع میں شاعر نے اپنی زندگی کا حاصل بیان کیا ہے۔ "روتے روتے چین کا کھونا" اس ذہنی و قلبی اضطراب کی عکاسی کرتا ہے جو عشقِ صادق کا خاصہ ہے۔ دوسرا مصرعہ "جو ہونا تھا اب ہو گیا" ایک صوفیانہ تسلیم و رضا کی کیفیت ہے، جہاں عاشق اپنی بربادی کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتا ہے۔ یہاں شاعر نے وقت کی طوالت (عمر گزاری) کو ہجر کے کرب سے جوڑ کر یہ واضح کیا ہے کہ یہ دکھ عارضی نہیں بلکہ دائمی ہے۔

شعرِ دوم و سوم (ہجر کی شدت اور باطنی زہر):
دوسرے شعر میں "تیری گلی کے پتھر" اور "سر کا پھوڑنا" کلاسیکی شاعری کی وہ تلازمات ہیں جو جنونِ عشق کو ظاہر کرتی ہیں۔ "خونِ تمنا کا رونا" ایک نہایت بلیغ ترکیب ہے؛ یعنی اب صرف آنکھیں نہیں روتیں بلکہ وہ خواہشات جو کبھی دل میں جوان تھیں، اب خون بن کر بہہ رہی ہیں۔ تیسرے شعر میں تنہائی اور بے کسی کا ذکر ہے۔ "بستیِ دل میں زہر کا بونا" اس بات کی علامت ہے کہ محبوب کا غم اب شاعر کے وجود میں سرایت کر گیا ہے، اور یہ زہر اب اسے آہستہ آہستہ فنا کی طرف لے جا رہا ہے۔

شعرِ چہارم و پنجم (عقل بمقابلہ جنون):
چوتھے شعر میں عقل اور عشق کے ازلی ٹکراؤ کو پیش کیا گیا ہے۔ دنیا دار (عقل کے مارے) ہمیشہ عاشق کی حالتِ زار پر ہنستے ہیں کیونکہ وہ اس روحانی لذت سے ناواقف ہوتے ہیں جو تڑپ میں پوشیدہ ہے۔ "ہوش کے عالم کا سونا" اس غفلتِ دنیا سے بے خبری ہے جو عشق کی پہلی منزل ہے۔ پانچویں شعر میں "ذکرِ یار" کو سانسوں کے دھاگے میں پرونے کی بات کی گئی ہے۔ یہ مقامِ پاسِ انفاس ہے جہاں ہر سانس محبوب کے نام کے ساتھ آتی اور جاتی ہے۔ "سراپا لہو ہونا" اس جسمانی و روحانی ریاضت کی آخری حد ہے جہاں عاشق اپنے وجود کو ذکرِ محبوب میں پگھلا دیتا ہے۔

شعرِ ششم (مقتل اور وفا):
"جامِ لبالب، مے سے بھرا ہے، بہتا لہو اب مقتل میں / داغِ وفا کو، اشکِ جگر سے، ہاتھ سے اپنے ہے دھو گیا"
اس شعر میں مقتل (قتل گاہ) اور مے (شراب) کے استعارے سے قربانیِ عشق کو بیان کیا گیا ہے۔ بہتا ہوا لہو دراصل وہ جامِ وفا ہے جو عاشق نے پی لیا ہے۔ "داغِ وفا کو اشکِ جگر سے دھونا" ایک پیراڈاکس (تضاد) ہے؛ یعنی وفاداری کے راستے میں ملنے والے زخموں اور تہمتوں کو شاعر اپنے ہی آنسوؤں سے صاف کر رہا ہے تاکہ اس کی محبت پاکیزہ رہے۔

مقطع (غائبانہ عشق اور حسن کا جادو):
"دیکھا نہیں پر، سن کے تیرا، نام ہی رویا جو یہ اسدؔ / حسن کی تیرے، دھوم کا جادو، جی میرا اب موہ گیا"
مقطع میں اسدؔ صاحب نے عشق کی ایک اور قسم "عشقِ سمعی" (سن کر ہونے والی محبت) کا تذکرہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی محبوب کو آنکھوں سے نہیں دیکھا، لیکن اس کے حسن کی شہرت اور اس کے نام کی حلاوت ہی میرے دل کو موم کرنے کے لیے کافی تھی۔ یہ شعر صوفیانہ رنگ میں ڈھلا ہوا ہے، جہاں بندہ اپنے رب کے جمال کی دھوم سن کر ہی اس کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ یہ انجامِ غزل اس جادوئی اثر کو بیان کرتا ہے جس نے شاعر کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

حاصلِ کلام:
محمد اسدؔ علی کی یہ غزل اپنے سادہ الفاظ کے باوجود جذبوں کی فراوانی رکھتی ہے۔ "کلیاتِ اسدؔ" کا یہ انتخاب کوٹ مومن کے ادبی افق پر ایک درخشندہ ستارہ ہے، جو ہجر و فراق کے مارے لوگوں کے لیے ایک تسکین کا باعث ہے۔ اس غزل کا فنی حسن اس کی روانی اور سچائی میں پوشیدہ ہے۔

از قلم: محمد اسدؔ علی (اسدؔ کوٹ مومن)

Official Digital Diwan | Kulliyat-e-Asad

تبصرے