اس عشقِ سمندر میں کنارا نہیں ہوتا

غزلِ اسدؔ


اس عشقِ سمندر میں کنارا نہیں ہوتا
اس دل کا ترے بن یوں گزارا نہیں ہوتا
تڑپاتی ہے ہر لمحہ مجھے تیری جدائی
یادوں کے بنا وقت گوارا نہیں ہوتا
جس رخ پہ نہ ہو تیری تجلی کی جھلک بھی
وہ چاند بھی ہم کو تو پیارا نہیں ہوتا
دھڑکن میں بسی ہے جو تری چاپ کی خوشبو
ویران کبھی دل کا گہوارہ نہیں ہوتا
سجدوں میں تڑپ، آنکھ میں آنسو کی لڑی ہے
بن آہ کے اس عشق کا دھارا نہیں ہوتا
بکھرا ہے جو سینے میں مرے درد کا عالم
ایسا تو کہیں کوئی نظارہ نہیں ہوتا
اسدؔ خاک میں مل کر ہی ملی اپنی حقیقت
بے خود ہوئے بن کوئی تمہارا نہیں ہوتا

جامع، عمیق اور مفصل ادبی تشریح: کلیاتِ اسدؔ

دیباچہ و فنی فلسفہ:
محمد اسدؔ علی کی یہ غزل "کلیاتِ اسدؔ" کا وہ شاہکار ہے جو صوفیانہ افکار اور قلبی واردات کا ایک بحرِ بے کنار ہے۔ اس غزل کا بنیادی موضوع عشقِ حقیقی کی لا محدودیت اور انسانی انا کی نفی ہے۔

شعرِ چہارم کی خصوصی تشریح :
"دھڑکن میں بسی ہے جو تری چاپ کی خوشبو / ویران کبھی دل کا گہوارہ نہیں ہوتا"
اس شعر میں اسدؔ علی نے نہایت لطیف پیرائے میں قلبی واردات کو بیان کیا ہے۔ پہلے مصرعے میں "چاپ کی خوشبو" کا استعارہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ محبوب کا احساس اب سماعت سے بڑھ کر روح کی گہرائیوں میں مہکنے لگا ہے۔ دوسرے مصرعے میں لفظ "گہوارہ" (جھولا/مرکز) استعمال کر کے شاعر نے دل کو ایک ایسی پناہ گاہ قرار دیا ہے جہاں یادوں کی پرورش ہوتی ہے۔ جب محبوب کی یاد کا بسیرا ہو، تو وہ دل کبھی ویرانی کا شکار نہیں ہو سکتا۔ یہ شعر فنی پختگی اور حرفِ روی 'را' کی کامل پاسداری کی عمدہ مثال ہے۔

مقطع (فنا اور حقیقت):
"اسدؔ خاک میں مل کر ہی ملی اپنی حقیقت / بے خود ہوئے بن کوئی تمہارا نہیں ہوتا"
مقطع میں شاعر نے عجز و انکسار کی معراج کو بیان کیا ہے۔ جب تک انسان اپنی انا کو خاک میں نہیں ملاتا، اسے عرفانِ ذات حاصل نہیں ہوتا۔ بقا صرف فنا میں ہی پوشیدہ ہے۔

حاصلِ کلام:
یہ غزل صوفیانہ رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے اور محمد اسدؔ علی کے فنی ارتقا کی شاہد ہے۔

از قلم: محمد اسدؔ علی (اسدؔ کوٹ مومن)

Official Digital Diwan | Kulliyat-e-Asad

تبصرے