نورِ حق سے وہ منور سارا عالم کر گیا

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ

نورِ حق سے وہ منور سارا عالم کر گیا
وہ بشر کی پستیوں کو عرشِ اعظم کر گیا
جس کی ٹھوکر سے الٹ کر رہ گئے تختِ ملوک
بندگی کو شاہیِ دوراں کا محرم کر گیا
فقر کی تیغِ براں، وہ جو کمالِ خود گری
ذرہِ ناچیز کو مہرِ دو عالم کر گیا
جس کی ٹھوکر سے گرے ہیں تاج و تختِ خسروی
بندہِ صحرا نشیں کو شاہِ عالم کر گیا
علم و حکمت کی ملی "اِقرا" سے جب ہم کو اساس
لوحِ دوراں پر وہی تو اسمِ اعظم کر گیا
جس کے دم سے کٹ گئی زنجیرِ پندارِ کہن
وہ جفائے دہر کو فیضِ مجسم کر گیا
بزمِ ہستی میں کوئی لایا نہ ایسی روشنی
جو اندھیرے دل تھے ان کو نورِ پیہم کر گیا
دے کے اپنی نعت کا سوزِ دروں اب اے اَسدؔ آنسوؤں کو
آنکھ کو وہ میری گویا چشمِ زمزم کر گیا

جامع تشریح و ادبی تجزیہ

تعارف: زیرِ نظر نعتِ رسولِ مقبول ﷺ محمد اسدؔ علی کے قلم سے نکلی ایک ایسی تحریر ہے جو حضور پرنور ﷺ کے انقلاب آفریں پیغام اور آپ ﷺ کی عظمتِ بشر کو اجاگر کرتی ہے۔ شاعر نے اس کلام میں یہ ثابت کیا ہے کہ حضور ﷺ کی تشریف آوری سے کائنات کا نقشہ ہی بدل گیا۔

تشریحِ کلام: مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ کے نور نے پورے عالم کو منور کر دیا اور وہ انسان جو ذلت کی پستیوں میں گرا ہوا تھا، آپ ﷺ کی نسبت سے عرشِ اعظم کی بلندیوں سے آشنا ہو گیا۔ کلام کے اگلے اشعار میں سیاسی اور سماجی انقلاب کا ذکر ہے۔ وہ تاج و تخت جو غرور کا نشان تھے، آپ ﷺ کی غلامی کے آگے ہیچ ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فقر اور سادگی کو وہ طاقت بخشی کہ ایک معمولی ذرہ بھی آفتاب بن کر چمکنے لگا۔

فکری پہلو: "اِقرا" (پڑھ) کے ذکر سے شاعر نے علم و حکمت کی اس بنیاد کی طرف اشارہ کیا ہے جس نے جاہلیت کے اندھیروں کو ختم کیا۔ آپ ﷺ نے انسان کو پرانی زنجیروں اور توہمات سے آزاد کرایا اور زمانے کی جفاؤں کو رحمت و فیض میں بدل دیا۔ بزمِ ہستی میں ایسی روشنی آپ ﷺ کے سوا کوئی دوسرا نہ لا سکا جس نے مردہ دلوں کو ابدی نور (نورِ پیہم) سے بھر دیا۔

حاصلِ نعت: مقطع میں شاعر اپنے تخلص اَسدؔ کے ساتھ ایک نہایت جذباتی کیفیت بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ نعت لکھنے اور پڑھنے کا جو سوزِ دروں اسے ملا ہے، اس نے شاعر کی آنکھ کو چشمِ زمزم کی طرح مقدس اور جاری کر دیا ہے۔ یہ رقت آمیز جذبہ آپ ﷺ سے گہری عقیدت اور عشق کا ثبوت ہے۔

از قلم: محمد اسدؔ علی

Kulliyat-e-Asad | Digital Divan Section II

تبصرے