میں جو خود اپنا یہاں نوحہ کناں بن بیٹھا

غزلِ اسدؔ

میں جو خود اپنا یہاں نوحہ کناں بن بیٹھا
شہر سارا ہی مرا مرثیہ خواں بن بیٹھا
میں نے سوچا تھا تری یاد سے آرام ملے
پر یہ امکان بھی اب زخمِ گُماں بن بیٹھا
کچھ نظر آئے تو لگتا ہے وہی تُو شاید
کچھ نہ ہو سامنے، تو دردِ جہاں بن بیٹھا
عشق؟ ہاں، عشق بھی اک کھیل سا لگتا ہے مجھے
جس میں ہر وار پہ دل ہی بے زباں بن بیٹھا
میں نے خود کو تری چاہت میں مٹا کر دیکھا
اب وہ خالی سا وجودِ ناتواں بن بیٹھا
کون سنتا ہے یہاں شورِ سکوتِ دل کو
میں ہی اک شمع تھا، خود خاکِ دھواں بن بیٹھا
میں نے مانا تھا کہ احساس ہی پوجا ٹھہرے
پر یہ احساس بھی اب ترکِ زباں بن بیٹھا
تُو اگر خواب میں آئے تو اجالہ پھیلاؤں
ورنہ خوابوں کا ہر اک زخمِ نہاں بن بیٹھا
جس کی خوشبو سے مہکتا تھا تصور میرا
وہ تصور بھی اب اک قیدِ جہاں بن بیٹھا
ایک چہرہ تھا مرے دل کی دعا کے اندر
اب وہی چہرہ مرا دشتِ فغاں بن بیٹھا
کبھی لگتا ہے کہ میں خود سے جدا ہو جاؤں
اور کبھی خود ہی مرا سائۂ جاں بن بیٹھا
میں نے سوچا تھا تری یاد سے جا پاؤں کبھی
پر وہی یاد مرا عینِ اماں بن بیٹھا
اسدؔ اب یاد بھی آتی ہے تو جلتا ہوں میں
جیسے ماضی کوئی خنجر کی زباں بن بیٹھا

غزلِ اسدؔ کی انتہائی مفصل فکری و فنی تشریح

دیباچہ و شعری منظر نامہ: محمد اسدؔ علی کی یہ غزل جدید اردو شاعری کے ان رنگوں سے مزین ہے جہاں داخلی شکست و ریخت کو ایک نئی لسانی تشکیل دی گئی ہے۔ ردیف "بن بیٹھا" محض ایک لفظی تکرار نہیں بلکہ ایک نفسیاتی تبدیلی (Transformation) کا استعارہ ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ شاعر کی دنیا اب اس کی مرضی کے مطابق نہیں رہی، بلکہ حالات کے جبر نے اسے ایک نئے روپ میں ڈھال دیا ہے۔

نفسیاتی تشریح و فنی گہرائی: مطلع میں "نوحہ کناں" اور "مرثیہ خواں" کا تضاد سماجی بے حسی کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ جب انسان اپنے دکھوں کا بوجھ خود اٹھانے کی کوشش کرتا ہے، تو دنیا اس کے درد کو سمجھنے کے بجائے اسے تماشہ بنا کر اس کا مرثیہ پڑھنے لگتی ہے۔ "زخمِ گماں" ایک بہت ہی اچھوتی ترکیب ہے، جو اس ذہنی اذیت کو بیان کرتی ہے جہاں یقین اور شک کے درمیان کی سرحدیں مٹ جاتی ہیں۔ "شورِ سکوتِ دل" خاموشی کی اس چیخ کا نام ہے جو صرف حساس روحیں ہی سن سکتی ہیں۔

وجودی فلسفہ اور ذات کی گمشدگی: اس غزل میں اسدؔؔ صاحب نے وجودیت (Existentialism) کے پہلوؤں کو بڑی خوبصورتی سے چھوا ہے۔ "خود سے جدا ہونا" اور پھر "خود ہی سائۂ جاں بننا" اس بات کی عکاسی ہے کہ انسان جب عشق کے صحرا میں گم ہوتا ہے، تو وہ اپنی ہی ذات کے لیے اجنبی بن جاتا ہے۔ "وجودِ ناتواں" کا استعارہ اس جذباتی تھکن کو ظاہر کرتا ہے جو مسلسل چاہت اور مسلسل محرومی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ "احساس کا ترکِ زباں بننا" وہ مقام ہے جہاں رابطے ختم ہو جاتے ہیں اور انسان خاموشی کے حصار میں مقید ہو جاتا ہے۔

استعاراتی حسن اور تلمیحات: شاعر نے "عشق" کو ایک کھیل قرار دیا ہے، لیکن یہ وہ کھیل ہے جس کا ہر وار دل پر لگتا ہے اور ہر وار کے بعد دل مزید "بے زباں" ہوتا چلا جاتا ہے۔ "دشتِ فغاں" (آہ و بکا کا صحرا) اس وسیع تنہائی کو ظاہر کرتا ہے جہاں اب وہی چہرہ دکھ کا باعث ہے جو کبھی دعاؤں کا مرکز تھا۔ تصورات کی خوشبو کا "قیدِ جہاں" بننا اس ٹریجڈی کو پیش کرتا ہے جہاں خواب ہی انسان کے لیے زنجیر بن جاتے ہیں۔

حاصلِ کلام و مقطع: مقطع میں اسدؔ  نے ماضی کی یادوں کو "خنجر کی زباں" کہہ کر درد کی انتہا کر دی ہے۔ ماضی کا خنجر بننا اس بات کی علامت ہے کہ گزرا ہوا وقت اب سہارا نہیں بلکہ ایک ایسا آلہ بن چکا ہے جو ہر لمحہ روح کو زخم لگاتا ہے۔ اسدؔ صاحب کی شعری بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مجموعی تاثر: یہ کلام قاری کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں اداسی محض ایک احساس نہیں بلکہ ایک مکمل وجود بن کر سامنے آتی ہے۔ محمد اسدؔ علی نے ثابت کیا ہے کہ وہ انسانی جذبات کی پیچیدہ گرہوں کو لفظوں کی زبان دینے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔

از قلم: محمد اسدؔ علی

Kulliyat-e-Asad | Kot Momin

تبصرے