کیا خبر زمانے کو مرے دلِ فگار کی

غزلِ اسدؔ

کیا خبر زمانے کو مرے دلِ فگار کی
خزاں نے لوٹ لی ہے سب بہار کوئے یار کی
تڑپ رہی ہے جاں مری اسیرِ دام کی طرح
ملی نہ ایک دید بھی وہ اپنے شہریار کی
کٹی ہے عمر حسرتوں کی دھول چاٹتے ہوئے
ملی نہ خاکِ پا ہمیں گلی کے پردہ دار کی
لهو میں ڈوب کر ہی ہم نے راہِ عشق طے کی ہے
ملی ہے بھیک پاؤں میں کسی کے نقشِ خار کی
جنوں میں ہم بھی قیس بن کے خاک میں ملے مگر
سنی نہ آہ بخت نے کسی بھی سوگوار کی
نہ کاٹ پائے کوهِ غم ہم اپنے خستہ پاؤں سے
بڑی کڑی ہے منزلیں فراق کے حصار کی
پلائی جو نگاہ سے تو ہوش سب کے اڑ گئے
ضرورت اب رہی نہیں ہے بادہ و خمار کی
پکارتا ہے نامِ یار، ہچکیاں ہی ہچکیاں
پھٹی ہوئی ہے آستین آج سوگوار کی
سکوں ملا نہیں اسدؔ کو خاک کی پناہ میں
اجل نے لی ہے چٹکی دیکھو جو مرے مزار کی

غزلِ اسدؔ کی جامع ادبی و فکری تشریح

دیباچہ: محمد اسدؔ علی کی زیرِ نظر غزل کلاسیکی تغزل کی روایات کا خوبصورت امتزاج ہے۔ شاعر نے اس کلام میں درد کی اس کیفیت کو زبان دی ہے جو محض شخصی نہیں بلکہ آفاقی معلوم ہوتی ہے۔ ردیف "کی" کا مسلسل استعمال ایک ایسی بازگشت پیدا کرتا ہے جو قاری کو ہجر کے حصار میں مقید کر دیتی ہے۔

فکری گہرائی اور فنی محاسن: مطلع میں "دلِ فگار" (زخمی دل) کا تذکرہ اس سماجی بے حسی کی طرف اشارہ ہے جہاں فرد اپنے کرب میں تنہا رہ جاتا ہے۔ "کوئے یار" کی بہاروں کا خزاں ہونا دراصل اس تہذیبی اور جذباتی زوال کا نوحہ ہے جہاں محبت کے مراکز اب ویرانی کا مسکن بن چکے ہیں۔ شاعر نے "اسیرِ دام" (جال میں قید پرندہ) کی تشبیہ دے کر اپنی قلبی بے چینی کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔

تلمیحات اور استعاراتی نظام: غزل میں "قیس" (مجنوں) کی تلمیح کا استعمال شاعر کے جنونِ عشق کو تاریخی اعتبار عطا کرتا ہے۔ "حسرتوں کی دھول چاٹنا" محرومی کی اس انتہا کو ظاہر کرتا ہے جہاں امید کے تمام چراغ گل ہو چکے ہوں۔ "لهو میں ڈوب کر راہ طے کرنا" اس کٹھن ریاضت کا استعارہ ہے جو عشقِ صادق کا خاصہ ہے۔ پاؤں میں "نقشِ خار" (کانٹے کے زخم) کی بھیک ملنا ایک ایسا انوکھا صوفیانہ تخیل ہے جہاں عاشق تکلیف کو بھی محبوب کی عطا سمجھ کر اس پر فخر کرتا ہے۔

منظر کشی اور داخلی کیفیات: "کوہِ غم" اور "فراق کا حصار" وہ دیواریں ہیں جو انسانی عزم کا امتحان لیتی ہیں۔ شاعر کا یہ کہنا کہ "نگاہ سے پلائی" تو ہوش اڑ گئے، اس بات کی دلیل ہے کہ مجازی عشق جب اپنی معراج پر پہنچتا ہے تو وہ کیفیاتِ مے و خمار سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ ہچکیوں میں نامِ یار لینا اور پھٹی آستین، اس حالتِ جذب کی عکاسی ہے جہاں انسان اپنے ظاہر اور معاشرتی وقار سے بلند ہو کر صرف اپنے محبوب کی یاد میں گم ہو جاتا ہے۔

مقطع کا انوکھا فلسفہ: مقطع میں اسدؔ نے کمالِ فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے موت اور مزار کے تصور کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ عمومی طور پر قبر کو جائے سکون مانا جاتا ہے، لیکن اسدؔؔ کا عشق اس قدر لا متناہی ہے کہ اسے مٹی کی چادر میں بھی قرار نہیں۔ "اجل کا چٹکی لینا" ایک اچھوتی اور نہایت بلیغ ترکیب ہے، جو یہ بتاتی ہے کہ موت بھی اس کے عشق کی تڑپ کو ختم نہیں کر سکی، بلکہ وہ قبر میں بھی ایک لامتناہی بے کلی کا شکار ہے۔

حاصلِ کلام: یہ غزل فنی پختگی، زبان کی سلاست اور معنوی گہرائی کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو محمد اسدؔ علی کو دورِ حاضر کے اہم شعراء کی صف میں کھڑا کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ کلام "کلیاتِ اسدؔ" کا وہ باب ہے جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔

از قلم: محمد اسدؔ علی

Kulliyat-e-Asad | Kot Momin

تبصرے